خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 53 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 53

خطبات محمود جلد ۴ ۵۳ سال ۱۹۱۴ء رحمت کا نمونہ اللہ تعالیٰ نے بتلا دیا اور اس مشکل میں آئندہ راحت بتلا دی۔اس وقت دشمن خوش ہے کہ احمدیوں میں اب تفرقہ پڑ گیا ہے اور یہ جلد تباہ ہو جائیں گے اور اس وقت ہمارے ساتھ زُلْزِلُوا زِلْزَالًا شَدِيدًا سے والا معاملہ ہے۔یہ آخری ابتلاء ہے جیسا کہ احزاب کے مواقع کے بعد دشمن میں یہ جرأت نہ تھی کہ مسلمانوں پر حملہ کرے۔ایسے ہی ہم پر یہ آخری موقع اور دشمن کا حملہ ہے۔خدا تعالیٰ چاہے ہم کامیاب ہوں تو انشاء اللہ پھر دشمن ہم پر حملہ نہ کرے گا بلکہ ہم دشمن پر حملہ کریں گے۔نبی کریم صلی انا کلیم نے احزاب پر فرمایا تھا کہ اب ہم ہی دشمن پر حملہ کریں گے اور شکست دیں گے، دشمن اب ہم پر کبھی حملہ آور نہ ہو گاہے یہ ایک آخری ابتلاء ہے اس سے اللہ تعالیٰ ہمیں محفوظ رکھے تو دشمن کو پھر کبھی خوشی کا موقع نہ ملے گا۔جنگیں تو احزاب کے بعد بھی ہوتی رہی ہیں۔لیکن پھر دشمن کو یہ حوصلہ نہیں ہوا کہ مسلمانوں پر حملہ آور ہو۔اسی طرح یہ آخری فتنہ ہے۔پس تم دعا میں لگ جاؤ یہ فتنہ احزاب والا ہے۔جس طرح وہاں صحابہ رِضْوَانُ اللہ علیہم کی حالت تھی وہی اب یہاں ہماری حالت ہے۔اور جو اس دشمن کی حالت ہوئی وہی اب دشمن کے ساتھ ہو گی تمہیں چاہیئے کہ تم آگے بڑھو۔دعاؤں میں لگ جاؤ کہ زلزلہ کے دن دُور ہوں اور یہ جو ہمارے درمیان فرق پڑ گیا ہے یہ فرق مٹ جاوے اور یہ تفرقہ اتحاد ہو جاوے۔بچھڑے ہوئے مل جاویں۔جو ٹوٹے ہوئے ہیں وہ جڑ جاویں اور جو اللہ تعالیٰ نے اپنے مسیح سے وعدے کئے تھے ہمارے ہاتھوں پر پورے ہوں۔اگر ان مصائب سے ہم نکل جاویں تو ہم دشمن پر فتحیاب ہوں گے۔ہمارے پاس لڑائی کا سا را سامان موجود ہے۔ہمیں ان اشیاء کی کچھ ضرورت نہیں ہے جو کہ ہمارے پاس نہیں ہیں۔جو ہتھیار ہمارے استعمال کیلئے ہمیں حضرت مسیح موعود دے گئے ہیں ہمارے لئے وہی کافی ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتابوں میں کافی ہتھیار موجود ہیں، ان کو استعمال کرو۔ظاہری ہتھیاروں ، تو پوں، بندوقوں ،تلواروں وغیرہ کی ہمیں کچھ ضرورت نہیں ہے۔جو ہتھیار حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہمارے لئے چھوڑ گئے ہیں وہ ہمارے لئے کافی ہیں۔ان سے ہم ایک ہی وار میں شیطان کا کام تمام کر سکتے ہیں۔پس تم ان ہتھیاروں کو اپنے استعمال میں لاؤ اور دعاؤں میں لگ جاؤ۔ہر روز صبح و شام پانچوں نمازوں میں اور تہجد کو اُٹھ اُٹھ کر دعا ئیں کرو۔