خطبات محمود (جلد 4) — Page 519
خطبات محمود جلد ۴ ۵۱۹ سال ۱۹۱۵ء تو جن کو لوگ آج کل ابتلاء قرار دیتے ہیں ان امتحانوں کی سختی ہی زیادہ ہوتی ہے۔پھر سمجھنا چاہئے کہ خدا تعالیٰ کا امتحان کیسا ہونا چاہئیے۔اللہ تعالیٰ ہماری جماعت کو وہ ایمان دے جو بڑے سے بڑے ابتلاء میں بھی قائم رہنے والا ہو لیکن ساتھ ہی ہم کو ابتلاء سے محفوظ بھی رکھے کہ ہم کمزور انسان ہیں۔جو لوگ جلسہ کے منتظم ہیں ان کی یہ خواہش ہے کہ میں پھر لوگوں کو جلسہ کے کام کیلئے توجہ دلاؤں اور مہمانوں سے اچھا سلوک کرنے کی ترغیب دوں۔بعض لوگ اس بات کی چنداں پرواہ نہیں کرتے اور مہمانوں سے جیسا سلوک کرنا چاہیئے وہ نہیں کرتے۔حضرت مسیح موعود کے وقت میں بعض مہمانوں کو کھانے کی تکلیف ہوئی اور بعض لوگ میز بانوں کی بے توجہی سے بھوکے رہے۔تو حضرت کو یہ الہام ہوا يأَيُّهَا النَّبِيُّ أطْعِمُوا الْجَائِعَ وَالْمُعْتَرَت۔پس تمہیں مہمانوں کی خاطر و تواضع اس طرح کرنی چاہیئے جیسا کہ تم چاہتے ہو کہ کوئی تمہاری خاطر کرے۔کیا تم چاہتے ہو کہ تم کسی کے ہاں مہمان ہو جاؤ اور وہ تمہاری طرف توجہ بھی نہ کریں اور جب تمہارا سالن یا روٹی ختم ہو جائے تو وہ تمہیں کہہ دیں کہ اب سالن ختم ہو گیا ہے۔پس ایسا نہ ہو کہ کوئی بات دریافت کریں تو ان کو خشک جواب دے دیا جائے۔مثلاً اگر کوئی ناواقف شہر میں آجائے اور اس کی جگہ باہر ہو تو اسے کہہ دیا جائے کہ آپ کی جگہ یہاں نہیں آپ وہاں جائیں اور وہاں جائے تو باہر والے کہہ دیں کہ فلاں جگہ چلے جائیں وہ بیچارہ حیران ہو کر ادھر ادھر چکر لگا تار ہے۔پس ہر ایک کو چاہیے خواہ وہ اس کا کام ہو یا نہ ہو اس کو واقف کرا دیں اگر خود نہ ساتھ جاتے سکیں تو کسی دوسرے کو اس کے ساتھ کر دیں جو ان کو جگہ بتلا دے۔اگر کوئی غلطی ان سے ہو جائے تو بھی اپنی طرف ہی اسے منسوب کریں کیونکہ مہمانوں کا کام نہیں ہوتا کہ وہ تمہارے قواعد کو یاد کریں یہ قواعد صرف کارکنوں کی ہدایت کیلئے ہیں۔بعض دفعہ دونوں جگہ مختلف کھانے پکنے سے بڑی ابتری پھیلتی ہے جو چیز یہاں پکے وہی چیز وہاں پکے ہر ایک تکلیف برداشت کر کے بھی انتظام کی عمدگی کی کوشش کرو۔رو۔بہت دفعہ کام سے کلام اچھا ہوتا ہے اگر تم اچھے اخلاق اور سلوک سے پیش آؤ گے تو وہ تمہاری محبت اور اخلاق ان اعلیٰ اعلیٰ کھانوں سے بہتر ہے جن کے ساتھ ترش روئی اور بدسلوکی کا برتاؤ ہو۔پس تم کام بھی اچھا کرو اور کلام بھی اور اپنا ظاہر و باطن دونوں یکساں رکھو۔بعض لوگ اعتراض کیا کرتے ہیں کہ جب ہم دل سے خدا کا نام لیتے ہیں تو منہ اور جسم ہلانے کی کیا