خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 512 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 512

خطبات محمود جلد ۴ ۵۱۲ (۹۲) سال ۱۹۱۵ ء کامل ایمان کا پتہ مصیبت کے وقت ہی لگتا ہے (فرمودہ ۱۰۔دسمبر ۱۹۱۵ء) تشهد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد حضور نے مندرجہ ذیل آیت کی تلاوت کی :۔وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَعْبُدُ اللهَ عَلَى حَرْفٍ فَإِنْ أَصَابَهُ خَيْرُنِ احْمَانَ بِهِ وَإِنْ أَصَابَتْهُ فِتْنَةُ انْقَلَبَ عَلَى وَجْهِهِ خَسِرَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةَ ذَلِكَ هُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِينُ اس کے بعد فرمایا۔ایمان جو انسان کو خدا تعالیٰ کے انعامات کا وارث کرتا ہے اور اس کا مقرب پیارا اور نعمتوں کا جاذب بنا تا ہے، وہ ایمان ہر قسم کے شکوک اور شبہات اور ماسوا اللہ کی محبت سے خالی ہوتا ہے۔وہی انسان کو کامیاب کرتا ہے اور خدا تعالیٰ کی رضامندی کا باعث ہوتا ہے لیکن وہ ایمان جس میں ماسوا اللہ کی محبت کی ملاوٹ ہو وہ کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا۔کیونکہ دونوں محبتوں کا یکجا ہونا غیر ممکن ہے۔ہمارے ہاں لوگ کہا کرتے ہیں کہ دو کشتیوں میں پاؤں رکھنے والا انسان کبھی نہیں بیچ سکتا۔اگر دونوں کشتیاں کچھ وقت تک اکٹھی بھی چلی جائیں تو پانی کی روضرور ایک نہ ایک وقت ان کو علیحدہ کر دے گی اور دونوں کشتیوں میں پاؤں رکھنے والے انسان کی ٹانگیں چر جائیں گی اور وہ غرق وتباہ ہو جائے گا۔اسی طرح خدا تعالیٰ سے تعلق رکھنے والا اور دنیا سے محبت رکھنے والا کیونکر کا میاب ہو سکتا ہے؟ جب تک انسان کامل طور پر خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا نہ کرے اور دنیا کی محبت کو نہ چھوڑے کا میاب نہیں ہو سکتا۔اکثر دیکھا جاتا ہے کہ لوگ ایسے