خطبات محمود (جلد 4) — Page 513
خطبات محمود جلد ۴ ۵۱۳ سال ۱۹۱۵ء ایمان کو لے کر خدا تعالیٰ سے ملنا چاہتے ہیں لیکن ایسے کمزور ایمان والوں کو جب خدا تعالی کی طرف سے انعام یا اکرام ملتا ہے تو بس ان کا ایمان پھوٹ پھوٹ کر نکلتا ہے اور جس جگہ بیٹھتے ہیں وہیں خدا تعالیٰ کے فضلوں اور کرموں کا ذکر شروع کر دیتے ہیں اور خدا تعالیٰ کی محبت میں ایسے سرشار معلوم ہوتے ہیں کہ گویا ساری دنیا کے انعام انہی پر ہوئے ہیں اور خدا تعالیٰ کی محبت کا ان کو اس قدر اعتبار ہو جاتا ہے جس کی کوئی حد نہیں۔اور کسی وقت ان کو کوئی تکلیف پہنچ جائے تو جھٹ شکایت شروع کر دیتے ہیں کہ خدا نے آگے ہم پر کون سا انعام کیا تھا جو اب تکلیف بھیج دی ہے۔ایسے لوگوں کا ایمان اس ملمع شدہ چیز کی طرح ہوتا ہے جس کا ملمع کچھ دنوں بعد اُتر جائے اور اس چیز کی اصلی حقیقت کھل جائے۔اسی طرح جب ایسے لوگوں کو تکلیف پہنچتی ہے تو ان کا ایمان جو دنیا کی محبت میں ملوث ہوتا ہے اس ملمع کی طرح کھل جاتا ہے اور ان کا کامل ایمان اور خدا تعالیٰ پر یقین کی جو حالت ہوتی ہے کچھ دنوں بعد کھل جاتی ہے بعض لوگوں کا ایمان کامل بھی ہوتا ہے مگر جب ابتلاء پیش آتا ہے تو ان کا ایمان بھی ڈگمگا جاتا ہے۔در حقیقت وہ اپنے آپ کو بڑا کامل الایمان خیال کرتے ہیں مگر ابتلاء کے وقت وہ ایسے بودے نکلتے ہیں جس کی کوئی حد نہیں۔ایسے ہی سکول کے بعض طلباء کی حالت ہوتی ہے وہ بھی اپنے آپ کو بڑا ہوشیار اور بڑا لائق سمجھتے ہیں مگر جب امتحان آتا ہے تو وہ ان کی کمزوری کو بتا دیتا ہے۔اور آئندہ کیلئے اس لڑکے کو ہوشیار کر دیتا ہے جس کمزوری کو دیکھ کر اسے زیادہ محنت کرنی پڑتی ہے۔اسی طرح بہت سے ابتلاء انسان کو فائدہ دے جاتے اور اس کی ترقی کا باعث ہوتے ہیں۔اس ابتلاء کے بعد ہی انسان ترقی کرتا اور کوشش میں لگتا ہے جس طرح طلباء کے ماہواری امتحان ان کو بتلا دیتے ہیں کہ تم نے اس ماہ میں کس قدر محنت کی اور اس کا کیا ثمرہ پایا۔اسی طرح ابتلاء انسان کو بتا دیتے ہیں کہ اس کے ایمان کی کیا حالت ہے اور وہ اپنے ایمان کو ملونی سے صاف کرنے کی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں لیکن وہ لوگ جو ابتلاؤں سے فائدہ نہیں اٹھاتے وہ کبھی ترقی اور کامیابی حاصل نہیں کر سکتے۔اس قسم کے لوگ نہ تو دنیا میں کامیاب ہوتے ہیں اور نہ آخرت میں پس ایسے لوگ جو ابتلاء کے وقت خدا تعالیٰ سے قطع تعلق کر لیتے ہیں پھر انہیں ذلیل و خوار ہونا پڑتا ہے۔ایسے لوگ دین میں ہو کر دین سے خارج ہی ہوتے ہیں، بظاہر وہ خدا تعالیٰ سے تعلق رکھتے ، کامل ایمان اور یقین ظاہر کرتے ہیں مگر