خطبات محمود (جلد 4) — Page 452
خطبات محمود جلد ۴ ۴۵۲ سال ۱۹۱۵ء مبشرات والی نبوت باقی ہے۔اور مبشرات کو خدا تعالیٰ نے مَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِينَ إِلَّا مُبَشِّرِينَ وَ منذِرِین میں نبوت قرار دیا ہے۔اور بتایا ہے کہ نبی وہ ہوتا ہے جس کی خبروں میں انذار اور تبشیر ہو۔نیز قرآن شریف میں نبی کی یہ پہچان بتائی ہے کہ لا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبة أَحَدًا إِلَّا مَنِ ارْتَطَى مِنْ رسول نے یعنی غلبہ علی الغیب کی شرط جس میں پائی جائے وہ رسول ہوتا ہے مبشرین ومنذرین والی آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہی نبی کا کام ہوتا کہ اخبار انذار اور تبشیر سنائے اور دنیا کی اصلاح کا کام اسی آیت سے نکل آتا ہے کیونکہ جولوگ انبیاء کو مانتے ہیں وہ مبشرات سنتے ہیں اور جو نہیں مانتے وہ عذاب پاتے ہیں اور اسی کا نام اصلاح ہے۔پس لَمْ يَبْقَ مِنَ النّبُوَّةِ إِلَّا الْمُرَات کے یہ معنے ہوئے کہ نبوت جو حاوی ہے تشریعی اور غیر تشریعی نبوت پر، اس میں سے نہیں باقی رہی مگر مبشرات والی یعنی غیر تشریعی نبوت۔اور یہ مَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِينَ إِلَّا مُبَشّرِينَ وَمُنْذِرِينَ میں بتا دیا کہ نبیوں کا کام تبشیر و انذار ہی ہے۔پس لَمْ يَبْقَ مِنَ النَّبوَةِ إِلَّا الْمُبَشِّرَاتِ کے متعلق یہ کہنا کہ اگر تمہارے معنی درست ہیں تو لَمْ يَبْقَ مِنَ النَّبُوَّةِ إِلَّا عَيْنُ النَّبوة چاہیے تھا باطل ہے ورنہ لَمْ يَبْقَ مِنَ الْمَاءِ إِلَّا مَا فِي هذَا الْإِبْرِيقِ اور لَمْ يَبْقَ مِنَ اللبِ الْيُوْنَانِيَّةِ إِلَّا الْبِيْطَرَةِ کے یہ معنے کرنے پڑیں گے کہ لوٹے کا پانی پانی نہیں۔اور بیطرہ طلب نہیں ناقص طب ہے۔ان کے دعوئی کی تمام بناء نبوت کو تشریعی نبوت میں محدود کرنے پر ہے لیکن یہ بات ثابت نہیں۔حضرت یحیی ایک ایسے نبی تھے جو حضرت مسیح کی زندگی میں موجود تھے تو کیا ایک گاؤں میں ایک خاندان میں اور ایک قوم میں یہ دونوں نبی علیحدہ علیحدہ شریعت لے کر آئے تھے۔اگر یہ مان لیا جائے کہ حضرت مسیح کوئی شریعت لائے تھے گو میرا یہ مذہب نہیں تو ماننا پڑے گا کہ حضرت یحی کوئی شریعت نہیں لائے تھے اور اگر حضرت موسی شریعت لائے تھے تو حضرت ہارون نے نہیں لائے تھے۔ہم دعوی کرتے ہیں کہ غیر تشریعی نبی ہوئے ہیں۔اور ایسے نبی آنحضرت مسلہ یہ تم کی وساطت سے اب بھی ہو سکتے ہیں۔ہاں اگر یہ ثابت کر دیا جائے کہ تشریعی نبوت کے سوا اور کوئی نبوت نہیں تو ہم مان لیں گے کہ مبشرات سے مراد جز ونبوت ہے نہ کہ نبوت۔لیکن اس طرح مَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِينَ إِلَّا مُبَشِّرِينَ وَمُنْذِرِین کی آیت کا انکار کرنا پڑے گا اور ماننا پڑے گا کہ اب کوئی ایسا انسان نہیں آسکتا جو بشیر اور نذیر ہو حالانکہ مسیح موعود آیا اور اس نے ہزاروں اور لاکھوں ایسے نشان دکھلائے جو آپ کے ماننے