خطبات محمود (جلد 4) — Page 447
خطبات محمود جلد ۴ ۴۴۷ سال ۱۹۱۵ ء چاہئیے تھا کہ حقیقۃ النبوت اور القول الفصل 3 کو پڑھ کر لوگ دور ہو جاتے لیکن بہت سے قریب آگئے اور بیعت میں داخل ہو گئے ہیں حالانکہ یہ ایسی کتابیں ہیں جن میں صرف حضرت مسیح موعود کی نبوت کا ذکر ہے اور آپ کے مسیح و مہدی ہونے کے متعلق دلائل نہیں دیئے گئے۔برخلاف ان کے ایک غلطی کا اظہار اور جزئی نبوت“ جو نبوت مسیح موعود کے خلاف لکھی گئی ہیں پڑھ کر کوئی ایسا قابل ذکر شخص نہیں جس نے مولوی محمد علی صاحب کی بیعت کی ہو۔کہا جاتا ہے کہ چونکہ تمہاری جماعت زیادہ ہے اس لئے کامیابی بھی تم کو ہی زیادہ ہو رہی ہے کیونکہ آدمیوں کی زیادتی پر کامیابی ہوتی ہے۔ہم چونکہ تھوڑے ہیں اس لئے کم ترقی کر رہے ہیں اور تم زیادہ ہو اس لئے بڑھ رہے ہو۔یہ سوال بے شک قابل غور ہوتا اگر انہی لوگوں کی تحریروں اور تقریروں میں ہم یہ دعوی نہ دیکھتے کہ جماعت کے انہیں حصے ہمارے ساتھ ہیں اور ایک حصہ ان کے ساتھ۔اگر ان لوگوں کی طرف سے جو لائف ممبر کہلاتے اور جو پاک ممبر ہونے کا دعوی کرتے ہیں یہ تحریر نہ ہوتی اور مولوی محمد علی صاحب جو امیر قوم کے لقب کے دعویدار ہیں اس کا اقرار نہ کرتے تو اور بات تھی لیکن اب جبکہ یہ کہا جاتا ہے کہ تم زیادہ ہو اس لئے زیادہ ترقی کر رہے ہو ان دو باتوں میں سے ایک کا اقرار کرنا پڑے گا۔یا تو یہ کہ جماعت کا بیسواں حصہ حضرت مسیح موعود کی نبوت کو نہیں مانتا بلکہ اکثر حصہ جماعت کا یہ عقیدہ رکھتا ہے یا یہ کہ مبائعین کی تعداد تو تھوڑی ہے لیکن کامیابی انہیں کو زیادہ ہو رہی ہے لیکن ان دونوں باتوں میں سے کسی ایک کا اقرار کرنے سے یہ ثابت ہو جائے گا کہ وہ بڑی بڑی جسامتوں والے جن کی ظاہری شکلوں نے بعضوں کو بھلا رکھا ہے دراصل ان کی ہے وجاہت کے پردے میں اسلام اور احمدیت سے نفرت چھپی ہوئی ہے اور انہوں نے یہ جھوٹ بولا ہے کہ نبوت مسیح موعود کا اقرار کرنا سلسلہ کی ترقی میں روک ہے یا جب انہوں نے کہا تھا کہ اُنیس حصے جماعت کے ہمارے ساتھ ہیں اور ایک حصہ ان کی طرف تو دنیا کو دھوکا دیا تھا۔کوئی کہہ سکتا ہے کہ اُنہیں حصہ جماعت کا ان کی طرف ہونا جھوٹ ہے تو ہونے دو۔اس سے تو یہ ثابت ہو گیا کہ وہ جھوٹے ہیں، فریبی ہیں، دھوکا باز ہیں لیکن یہ ثابت نہیں ہوتا کہ کثیر حصہ جماعت کی زیادہ ترقی کا باعث نہیں ہوا کرتا۔انہوں نے بے شک جھوٹ بولا، فریب دیا لیکن اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ نبوت کا مسئلہ سلسلہ کی ترقی کی راہ میں واقعہ میں کوئی روک ہے اور یہ اعتراض ابھی قائم ہے کہ وہ کم ہیں اس لئے تھوڑی ترقی