خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 433 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 433

خطبات محمود جلد ۴ ۴۳۳ (۸۲) اسلام وقتی جوش کیلئے نہیں بلکہ موت تک قربانی کیلئے بلاتا ہے (فرموده ۳۔ستمبر ۱۹۱۵ء) سال ۱۹۱۵ء تشهد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد حضور نے مندرجہ ذیل آیات کی تلاوت فرمائی :: الم - ذلِكَ الْكِتَبُ لَا رَيْبَ فِيْهِ هُدًى لِلْمُتَّقِينَ الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ وَ يُقِيمُونَ الصَّلوةَ وَمِمَّا رَزَقْهُمْ يُنْفِقُونَ وَالَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ وَبِالْآخِرَةِ هُمْ يُوقِنُونَ۔أُوْلَئِكَ عَلَى هُدًى مِّنْ رَّبّهِمْ وَأُوْلَئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ اس کے بعد فرمایا:۔انسانوں میں سے بہت سے انسان ست بھی ہوتے ہیں، سکتے بھی ہوتے ہیں، بے استقلال بھی ہوتے ہیں اور بے ہمت بھی ہوتے ہیں اور ان کے بڑے خصائل کے خلاف واعظ لوگ لوگوں کو بہت کچھ کہتے سنتے بھی رہتے ہیں اور ان سے بچنے کی طرف متوجہ بھی کرتے رہتے ہیں لیکن اصل ہوشیاری، اصل ہمت اور کام کرنے کی طاقت وقوت کسے کہتے ہیں اور اس سے کیا مراد ہے؟ اس سے بہت کم لوگ آشنا ہوتے ہیں اس لئے بعض لوگ غلطی سے بعض باتوں کا نام ہمت ، ہوشیاری اور کام کرنے کی عملی طاقت رکھ لیتے ہیں۔لیکن درحقیقت وہ عملی طاقت ہمت اور ہوشیاری نہیں ہوتی۔بلکہ ہمت، ہوشیاری اور عملی طاقت وقوت تو بہت بڑی چیزیں ہیں اور ان کا حاصل کرنا یا اپنے اندر پیدا کرنا کوئی چھوٹی سی بات نہیں کیونکہ یہ بڑے صبر اور بڑی محنت کو چاہتی ہیں۔