خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 434 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 434

خطبات محمود جلد ۴ ۴۳۴ سال ۱۹۱۵ء بہت سے لوگ دنیا میں بعض وقتوں میں بڑے چوکس اور ہوشیار بھی ہوتے ہیں مگر باوجود اس کے وہ چوکس اور ہوشیار نہیں ہوتے۔بعض لوگ بعض وقتوں میں بڑے جوش سے کام کرتے ہیں لیکن باوجود اس کے ان کا وہ فعل اس امر پر دلالت نہیں کرتا کہ وہ بڑے ہمت والے اور اولو العزم ہیں اور نہ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ان کے اندر عملی طور پر کام کرنے کی طاقت اعلی حد تک پہنچی ہوئی ہے کیونکہ ان کے تمام کام ایسے ہی ہوتے ہیں جیسے ہانڈی کا اُبال۔ہانڈی جب چولہے پر چڑھی ہو تو اس میں ابال آتا ہے مگر وہ اُبال قائم رہنے والی چیز نہیں ہوتی ذرا ڈھکنا اُتارو و ہیں بیٹھ جاتا ہے۔تو وہ اعمال جو ان کی ہمت چیستی ، اور ہوشیاری پر یا ان کے اندر عملی طاقت کے موجود ہونے پر بظاہر دلالت کرتے ہیں در حقیقت ہنڈیا کے ابال سے زیادہ وقعت نہیں رکھتے۔میرے خیال میں تو دنیا میں کوئی بھی ایسا انسان نہیں جس پر کسی نہ کسی وقت جوش اور چستی کی حالت نہ گزرتی ہو۔جس طرح ہر وہ ہنڈیا جو آگ پر رکھی جاتی ہے اُبلتی ہے اسی طرح ہر وہ انسان جو دنیا میں کام کرتا ہے کبھی نہ کبھی جوش دکھاتا ہے لیکن باوجود اس کے نہیں کہہ سکتے کہ وہ بڑا کام کرنے والا ہے۔کیوں؟ اس لئے کہ اُس کا جوش وقتی ہے۔وقتی جوش بے شک ایک حد تک مفید ہوتا ہے اور اکثر کام دے جاتا ہے لیکن اس سے وہ نتائج نہیں نکل سکتے جو استقلال کے ساتھ کام کرنے سے نکلتے ہیں کیونکہ اس طرح جو نتائج نکلتے ہیں وہ وقتی جوش کی نسبت بہت بڑے ہوتے ہیں۔اگر کوئی ایسا وقت آئے کہ ہندوؤں مسلمانوں کا یا مسلمانوں عیسائیوں کا یا ہندوؤں عیسائیوں کا مباحثہ ہو تو ہر قوم کے آدمی یہی ظاہر کریں گے کہ اپنے مذہب کی محبت میں ایسے چور ہیں کہ ایک بات بھی اس کے خلاف نہیں سن سکتے لیکن جب پنڈت اور مولوی یا پادری مباحثہ سے اُٹھ کھڑے ہوں تو انہیں کبھی خیال بھی نہیں آتا کہ ہمارے مذہب میں بھی کوئی خوبی ہے یا نہیں، اس کیلئے غیرت چاہئیے یا ہیں۔مباحثات میں جاہلوں کو زیادہ جوش آیا کرتا ہے مگر جب گھر جاتے ہیں تو سب کچھ بھول جاتے ہیں۔اب اس جوش کو دیکھ کر کوئی کہہ سکتا ہے کہ یہی لوگ صحابہ کا نمونہ ہیں اور واقعہ میں ان کی اس حالت کو دیکھ کر ایک نبی کی تربیت یافتہ جماعت کے ساتھ انہیں تشبیہ دی جاسکتی ہے کیونکہ یہ لوگ اس وقت اپنے مذہب کے خلاف سن کر کرب ظاہر کرتے ہیں ، دین کی محبت میں چور نظر آتے ہیں، اپنے مذہب کی کامیابی پر اتنی خوشی کا اظہار کرتے ہیں کہ انہیں بادشاہت بھی ملتی تو بھی اتنی خوشی نہ