خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 418 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 418

خطبات محمود جلد ۴ ۴۱۸ سال ۱۹۱۵ کی امید تھی مگر سانپ نہ ملا۔صبح ہوئی تو ایک سپیرا نے اسے آکر کہا کہ فلاں سپیرا کو سانپ کاٹ گیا ہے چلو علاج سوچیں۔جا کر دیکھا تو معلوم ہوا کہ اُسی سانپ نے جو گم ہوا تھا اسے کاٹا ہے وہ اسے چرا کر لے گیا تھا۔اس دن اس کے زہر کا خاص دن تھا اور اس کے کاٹے کا علاج نہ ہوسکتا تھا وہ سپیرا مر گیا۔تو پہلا سپیرا جو بڑی دعائیں کر رہا تھا کہنے لگا واقعی خدا تعالیٰ نے میری دعا قبول فرمائی ہے۔تو اس طرح بھی اللہ تعالیٰ دعا قبول کرتا ہے جو کہ انسانی نظر میں رڈ کی ہوئی نظر آتی ہے۔یہ خدا تعالیٰ کی حکمت ہوتی ہے لیکن نادان گھبرا جاتا ہے کہ میری دعا قبول نہیں ہوئی حالانکہ اس کا قبول ہونا ہی یہی ہوتا ہے کہ رد کی جائے۔انبیاء کی دعاؤں کے ساتھ بھی یہی سلسلہ جاری رہتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا الہام ہے اُجیب كُلّ دُعَائِكَ إِلَّا فِي شُرَ حَائِكَ 3 اور تو تمہاری سب دعائیں سنیں گے مگر شرکاء کے متعلق نہیں سنیں گے۔اسی طرح حدیث سے ثابت ہے کہ آنحضرت مسی یا یہ تم کو جواب ملا کہ یہ دعا نہیں سنی جائے گی۔اب یہ سوال ہوتا ہے کہ جب ہر ایک دعا نہیں سنی جاتی بلکہ کبھی قبول ہوتی ہے اور کبھی نہیں تو اس طرح ہر ایک بات کے متعلق ہوتا ہے کہ کبھی ہو جاتی ہے اور کبھی نہیں تو یہ کیوں نہ سمجھ لیا جائے کہ اتفاقیہ طور پر ہو جاتا ہے دعا وغیرہ کچھ نہیں۔اس کا جواب یہ ہے کہ دعاؤں کے ذریعہ ایسی خوارق عادت باتیں ظاہر ہوتی ہیں جو کہ انسانی اسباب اور طاقت سے بالا تر ہوتی ہیں اور وہ اس بات کا ثبوت ہوتی ہیں کہ یہ خدائی کام ہے نہ کہ انسانی۔مثلاً یہاں ہی ایک لڑکا عبد الکریم تھا اسے ہلکا کتا کاٹ گیا تو اسے علاج کیلئے کسولی بھیجا گیا لیکن کچھ عرصہ بعد اسے ہلکا پن ہو گیا۔کسولی تار دی گئی تو جواب آیا کہ اب اس کا کوئی علاج نہیں ہوتے سکتا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کے متعلق دعا کی ، وہ اچھا ہو گیا۔تو اس طرح کے نشانات سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ ضرور دعائیں سنتا ہے۔بعض دفعہ انسانی قدرتیں اور طاقتیں ختم ہو جاتی ہیں پھر دعا کے ذریعہ وہ کام ہو جاتا ہے۔بعض باتوں کیلئے سامان نہیں ہوتے لیکن دعا کرنے سے ہو جاتے ہیں۔غرض ایسی بہت سی علامات ہیں جن سے بڑی آسانی سے فیصلہ ہو جاتا ہے۔پس بعض دعاؤں کی نسبت یہ دیکھ کر کہ قبول نہیں ہوتیں یہ نہیں سمجھا جا سکتا کہ کوئی دعا بھی قبول نہیں ہوتی۔یہ بات تو دنیا میں بھی نظر آتی ہے۔مثلاً ہر ایک بیماری کی دوا ہے لیکن اس دوا سے سارے ہمارا چھے نہیں ہو جاتے تو اس سے یہ نتیجہ نہیں نکالا جا سکتا کہ اس دوا سے فائدہ ہی نہیں ہوتا۔دیکھنا یہ چاہئیے فیصدی