خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 419 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 419

خطبات محمود جلد ۴ ۴۱۹ سال ۱۹۱۵ کتنا فائدہ ہوتا ہے۔اگر دوا استعمال کر کے تندرست ہونے والوں کی نسبت ان سے زیادہ ہے جن کو فائدہ نہیں ہوتا تو اسے مفید سمجھا جائے گا اور اگر کم ہے تو لغو۔اسی طرح دعا کے متعلق دیکھنا چاہیئے کہ خدا کے نیک بندوں کی دعائیں کتنی قبول اور کتنی رد ہوتی ہیں۔اور انہیں کیسی کامیابی ہوتی ہے اور ان کے مقابلہ پر آنے والوں کو کیسی نا کامی۔پس اس طرح آسانی سے فیصلہ ہو سکتا ہے۔انسان کو چاہیے کہ دعا کے متعلق جو شرائط ہیں انہیں ملحوظ رکھے۔دعا پر اتناز وردے جتنا مناسب ہو۔گھبراہٹ نہ ہو تا شرک نہ پایا جائے۔ادب کا خیال ہو کوئی دعا الہی سنت کے خلاف نہ ہو۔اخلاص، جوش اور تڑپ ہو۔پھر دعا کی قبولیت کے سامان مہیا کئے جائیں۔مثلاً صدقہ خیرات اور عبادت پر زور ہو۔ان سامانوں اور شرائط کے بعد اگر دعا کی جائے تو قبول ہو جاتی ہے لیکن خدا جسے چاہے رد بھی کر دیتا ہے۔چونکہ آج کل دعاؤں کے دن ہیں اور خاص کر یہ آخری عشرہ رمضان کا دعاؤں کیلئے بہت ہی مناسب ہے اس لئے میں نے دعا کے متعلق کچھ بیان کر دیا ہے۔دعائیں کرنے والے ان باتوں کو مد نظر رکھ لیں۔خدا تعالیٰ ہماری جماعت پر فضل کرے تا کہ انہیں نیک دعاؤں کی توفیق ملے اور انہیں اللہ تعالیٰ کے حضور شرف قبولیت حاصل ہو۔دعائیں رشتہ داروں، دوستوں اور عزیزوں کیلئے باعث ترقی ہوں۔الفضل ۱۲۔اگست ۱۹۱۵ء) ل البقرة: ١٨٧ الصحى: سے تذکرہ صفحہ ۲۶۔ایڈیشن چہارم