خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 389 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 389

خطبات محمود جلد ۴ ۳۸۹ سال ۱۹۱۵ء اُٹھ بیٹھے اور فرمایا کہ وہ خدا کے شیر پر ہاتھ مارتا ہے نقصان اٹھائے گا۔چنانچہ اس کے دو بیٹے تھے دونوں مر گئے۔حالانکہ وہ اپنے ارادہ میں کامیاب نہ ہو سکا۔تو ان لوگوں کو کوئی چھیڑ نہیں سکتا۔خدا تعالیٰ کی نصرت ان کے ساتھ ہوتی ہے اس لئے جو کوئی ان کا مقابلہ کرتا ہے وہ کامیاب نہیں ہوسکتا۔میں حیران ہوں کہ کفر اور اسلام کے مسئلہ کو منکرین خلافت کیوں اتنا بڑھا رہے ہیں۔کیا خدا تعالیٰ کی طرف سے جو لوگ آتے ہیں ان کو کوئی انسان ہونے کے لحاظ سے مانتا ہے۔آنحضرت سلین سیستم بھی انسان تھے آپ کی بشریت کا تو کوئی منکر نہیں۔ہر ایک مذہب وملت کے لوگ یہ جانتے ہیں کہ آپ ایک انسان تھے تو انسان ماننا تو ایسی بات نہیں جس کا انکار کیا جائے۔ہاں انکار یہ ہوتا ہے کہ ایک انسان خدا تعالیٰ کی طرف سے آتا ہے لیکن نادان کہتا ہے کہ خدا کی طرف سے نہیں آیا۔یہ انکار اس انسان کا انکار نہیں بلکہ اس کے بھیجنے والے یعنی خدا تعالیٰ کا انکار ہوتا ہے۔اسی طرح ایک بیوقوف کہتا ہے کہ حضرت مسیح موعود آنحضرت مالی ستم کے خادم تھے اس لئے یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ ان کا انکار کا فر بنا دے۔ہم کہتے ہیں کہ مسیح موعود کا انکار بحیثیت آپ کے انسان ہونے اور آنحضرت صلی یہ اہم کا خادم ہونے کی وجہ سے کفر نہیں بلکہ اس لئے ہے کہ خدا تعالیٰ نے آپ کو بھیجا ہے اور اس کا انکار کرنے والا کا فر ہوتا ہے۔پس نادان اپنی نادانی سے انسانوں میں فرق کرتے اور کہتے ہیں کہ ایک کا انکار بڑا اور ان دوسرے کا چھوٹا ہے لیکن وہ یہ نہیں سمجھتے کہ یہ تو خدا کا انکار ہے اور وہ بہت بڑا ہے چھوٹا نہیں اس کی طرف سے کوئی آجائے اور اس کا انکار کبھی چھوٹا انکار نہیں ہوسکتا۔روس کا ایک کاؤنٹ (count) ا تھا وہ پہلے بادشاہ کا دربان تھا۔ایک دن بادشاہ نے اسے کہا کہ کسی کو اندر نہ آنے دینا۔کچھ دیر بعد ایک ڈیوکے(DUKE) آیا اور اس نے کہا کہ میں اندر جانا چاہتا ہوں۔دربان نے کہا کہ میں نہیں جانے دوں گا وہ اندرگھنے لگا تو اس نے روک لیا۔ڈیوک نے اسے مارنا شروع کیا اور پھر اندر جانے لگا لیکن اس نے پھر روک لیا اسی طرح بہت دیر تک ان کی کشمکش ہوتی رہی۔زار دیکھ رہا تھا۔اس نے دونوں کو اندر بلایا اور ڈیوک سے پوچھا تم نے اسے کیوں مارا ہے۔اس نے کہا میں ڈیوک ہوں اس نے مجھے اندر آنے سے روکا اس لئے میں نے اسے مارا۔دربان سے پوچھا کہ تم نے انہیں کیوں روکا۔اُس نے کہا کہ میں نے اس لئے روکا ہے کہ ان سے بڑے نے مجھے روکنے کا حکم دیا تھا۔ڈیوک سے پوچھا کہ