خطبات محمود (جلد 4) — Page 364
خطبات محمود جلد ۴ ۳۶۴ سال ۱۹۱۵ء دشمنوں سے بھی اسے مقابلہ کرنا پڑتا ہے۔اور اگر ایک طرف ایسے لوگ ہوتے ہیں جو اس کی عزت و آبرو اور راحت و آرام کیلئے اپنی جانیں قربان کر دیتے ہیں تو دوسری طرف ہر ایک انسان کیلئے ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو اس کو دکھ اور مصیبت میں ڈالنے کے لئے اپنے آپ کی بھی پرواہ نہیں کرتے۔بہت سے ایسے انسان ہوتے ہیں جو اپنی جان و مال اور عزت کو اس خیال سے برباد کر دیتے ہیں کہ دوسرے کی جان و مال اور عزت تباہ ہو جائے۔ہر ایک انسان کو یہ باتیں پیش آتی ہیں کہ کوئی اس کی محبت کا دم بھر رہا ہے تو کوئی اس کی دشمنی کی آگ کو سینہ میں دبائے ہوئے ہے، کوئی اس کا عزیز ہے تو کوئی اس کے خون کا پیاسا، کوئی جان دینے کے لئے تیار ہے تو کوئی جان لینے کے در پے۔پس جب ہر ایک انسان کی زندگی کا یہ حال ہے تو وہ کتاب جو انسان کی روحانی ترقی کیلئے آئی ہو اس کا یہ بھی کام ہے کہ جہاں وہ دوستوں ، عزیزوں اور پیاروں کے ساتھ برتاؤ کا طرز بتائے وہاں دشمنوں اور مخالفوں کے ساتھ سلوک کرنے پر بھی روشنی ڈالے۔قرآن شریف نے دونوں طریق بتائے ہیں۔اگر ایک طرف والدین، بھائی، بہن وغیرہ رشتہ داروں ، دوستوں، آشناؤں اور تمام بنی نوع انسان سے خواہ وہ کسی قوم کسی مذہب کسی ملک کے ہوں، خواہ کسی عمر کے ہوں ، مرد ہوں، عورتیں ہوں، بچے ہوں بوڑھے ہوں، ان سب کے تعلقات اور سلوک کی ہدایات بتائی ہیں تو دوسری طرف دشمنوں اور معاندوں سے بھی سلوک کرنا بتایا ہے۔یہ آیت جو میں نے پڑھی ہے اس میں بتایا گیا ہے کہ دشمن کے ساتھ تمہیں کس طرح معاملہ کرنا چاہئیے۔فرمایا لڑو اور جنگ کرو اللہ کے راستہ میں یعنی دین کے معاملہ میں تمہیں جنگ کرنے کا حکم ہے مگر کہاں اور کن لوگوں سے؟ ان سے جو تم پر حملہ آور ہوں۔اگر وہ تمہیں دین کے معاملہ میں تنگ کریں اور تمہیں دین سے ہٹانے اور بدلانے کیلئے یا تمہارے دین کو مٹانے کیلئے جنگ کریں تو تم بھی ایسے لوگوں سے ضرور جنگ کرو لیکن یہ بھی یا درکھو کہ تمہیں یہ اجازت نہیں کہ کسی قوم پر اس لئے حملہ کر دو کہ وہ تمہارے دین میں نہیں ہے اور تمہارے مذہب کو قبول نہیں کرتی، قرآن شریف کو نہیں مانتی۔ہاں اگر کوئی قوم تمہیں مذہب سے برگشتہ کرنے اور تمہارے مذہب کو تباہ کرنے کیلئے تم پر حملہ کرے تو پھر تمہیں اس سے لڑنے کی اجازت ہی نہیں بلکہ حکم ہے، پس تم ضرور اس سے لڑ ولیکن ایک اور بات بھی لڑائی کے وقت تمہارے مد نظر رہنی چاہئے اور وہ یہ کہ جنگ میں جوش اور غصہ کی وجہ سے انسان کے ہوش اڑ جاتے ہیں۔بہت لوگ نرم طبع