خطبات محمود (جلد 4) — Page 335
خطبات محمود جلد ۴ ۳۳۵ سال ۱۹۱۵ء ایک بادشاہ رعایا کو کہے کہ فلاں شخص نے میری بات کو اچھی طرح اور صحیح معنوں میں سمجھ لیا ہے وہ جو کچھ تمہیں کہے اسے مان لو تو اس کی بات لوگ اس لئے نہیں مانیں گے کہ وہ کہتا ہے بلکہ اس لئے کہ چونکہ بادشاہ نے کہا ہے کہ اس کی بات کو مان لو اس لئے مانتے ہیں۔اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کہنے کو ہم اس لئے نہیں مانتے کہ آپ کوئی نئی شریعت لائے تھے بلکہ اس لئے کہ خدا تعالیٰ نے کہا ہے کہ یہ میرے احکام کی سچی تفسیر ہے اور رسول اللہ صلی یا کہ تم نے فرمایا ہے کہ یہ حکم اور عدل ہے اس لئے مانتے ہیں۔اب ہم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس ڈائری کو لیتے ہیں اور آپ کے تعامل کو دیکھتے ہیں ان کا آپس میں مقابلہ ہوگا۔اب اگر غیر احمدی کا جنازہ پڑھنے کے متعلق جو اس ڈائری میں لکھا ہے قرآن شریف کا کوئی حکم نہ ہو اور حضرت مسیح موعود کا کوئی عمل نہ ہو تو ہمیں اسے رد نہیں کرنا چاہیئے لیکن اگر قرآن شریف کا فیصلہ اور حضرت مسیح موعود کا عمل اس کے خلاف ہو تو وہ رد ہو جائیں گی۔لیکن یہ یادرکھنا چاہئیے کہ یہ ڈائری اس لئے رڈ نہیں ہوگی کہ آپ کی ڈائری کی ہمارے نزدیک کوئی حیثیت نہیں کیونکہ اگر ہم ایسا کریں گے تو ہمارے سلسلہ کا بہت بڑا حصہ باطل ہو جاتا ہے جیسے تمام حدیثوں کے رد کر دینے سے اسلام کا بہت بڑا حصہ باطل ہو جاتا ہے۔ویسے ہی حضرت صاحب کی ڈائریوں کو چھوڑ دینے سے احمدیت کا بڑا حصہ اندھیرے میں ہو جاتا ہے لیکن اگر ہم کسی کی ڈائری کو نہیں مانتے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ڈائری لکھنے والے کوغلطی لگ گئی ہے اور اس نے بات کو غلط سمجھا ہے اور ایسا ہونا کوئی ناممکن بات نہیں بلکہ ایسا ہو ہی جاتا ہے۔بات کو سمجھنے میں غلطی کھانے کی ایک تازہ مثال ہی دیکھ لو۔اخبار الفضل میں جو درس چھپ رہا ہے اس میں میری طرف وہ بات منسوب کی گئی ہے جو میں نے بالکل نہیں کہی۔اس میں لکھا گیا ہے کہ ”مج کو توریت میں بٹیر لکھا سلوی کو گھمبیاں لکھا ہے۔حالانکہ نہ من کو بٹیر کہتے ہیں اور نہ سلویٰ کو کھمبیاں۔اور نہ ہی یہ توریت میں لکھا ہے من اور سلوی کے معنے لکھنے میں تو لغت کی غلطی کی ہے اور حدیث کی بجائے توریت لکھ دیا ہے جو مجھنے میں غلطی کھانے کی وجہ سے بات کو الٹ دیا گیا ہے لیکن اب اس غلطی کی وجہ سے یہ نہیں کہا جائے گا کہ تمام درس ہی قابل اعتبار نہیں رہا اور اس میں میری کوئی بھی بات نہیں ہے بلکہ پیغلطی درس لکھنے والے سے ہوئی ہے کہ یا تو اس نے جو درس کے نوٹ لکھے ہیں وہ بعد میں پڑھے نہیں گئے یا اس نے میری بات کو اور