خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 336 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 336

خطبات محمود جلد ۴ ۳۳۶ سال ۱۹۱۵ء سمجھا ہی غلط ہے۔پس بعض دفعہ بات سمجھنے والے سے غلطی ہو جاتی ہے لیکن اس غلطی لگنے کو ایسا وسیع نہیں کیا جا سکتا کہ ہر بات کیلئے کہہ دیں کہ لکھنے والے نے غلط سمجھا اور غلط لکھا ہے ہاں جب کوئی بات قرآن شریف اور احادیث صحیحہ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے عمل کے خلاف ہو گی تب کہیں گے کہ لکھنے والے کی غلطی سے اس طرح لکھی گئی ہے۔اب ہم غیر احمدی کے جنازہ کو لیتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ اس کے متعلق قرآن شریف اور حضرت صاحب کا تعامل کیا بتا تا ہے۔وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ غیر احمدی کا جنازہ پڑھنا جائز ہے ان کو ہم کہتے ہیں کہ اگر یہ جائز بات ہے اور جائز بھی ایسی جو شفقت علی الناس سے تعلق رکھتی ہے تو ضرور ہے کہ حضرت مسیح موعود کا تعامل بھی اس کی تصدیق کرے کیونکہ ایک بات ایسی ہوتی ہے جو جائز ہوتی ہے لیکن لوگوں کے ساتھ شفقت کرنے کا اس میں کوئی پہلو نہیں ہوتا۔مثلاً ایک شخص کیلئے لٹھے کی قمیض پہنا جائز ہے اور اگر وہ ململ کی قمیض پہنے تو یہ بھی اس کیلئے جائز ہے لیکن اس میں کسی پر کوئی شفقت نہیں پائی جاتی۔لیکن جنازہ پڑھنا اس قسم کا جائز ہے کہ اس میں دوسرے پر شفقت بھی پائی جاتی ہے کیونکہ یہ دوسرے پر رحم کرنا اور اس کیلئے رحم کی دعامانگنا ہے۔انبیاء تو بڑے رحیم و کریم ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ آنحضرت سلیم کی نسبت فرماتا ہے إِنَّكَ لَعَلى خُلُقٍ عَظِیم ۵۔تو ہر ایک وہ جائز بات جو شفقت علی الناس سے تعلق رکھتی ہے وہ انبیاء کے لئے بہت ضروری ہوتی ہے کیونکہ وہ آتے ہی اسی لئے ہیں کہ دنیا سے محبت و پیار اور الفت اٹھ جاتی ہے وہ آکر اسے لوگوں میں پیدا کرتے ہیں۔دشمنوں کو دوست، بیگانوں کو لگانے اور پرایوں کو اپنے بناتے ہے ہیں اور یہ انبیاء کیلئے ضروری بات ہوتی ہے۔پس اگر غیر احمدی کا جنازہ پڑھنا جائز ہوتا اور ڈائری لکھنے والے نے آپ کی بات کو ٹھیک اور درست سمجھا ہوتا تو ضرور ہے کہ حضرت مسیح موعود کے تعامل سے بھی یہ بات ثابت ہوتی۔یعنی کبھی غیر احمدی مرے ہوں اور حضرت صاحب ان کا جنازہ پڑھنے کیلئے گئے ہوں۔اچھا یہ تو نہ سہی کہ حضرت صاحب کسی کا جنازہ پڑھنے کیلئے گئے ہوں لیکن بعض جگہیں ایسی بھی ہوتی ہیں کہ وہاں تو ضرور شفقت اور رحم کو کام میں لانا پڑتا ہے۔آؤ ہم ایسی جگہوں کو بھی دیکھیں کہ حضرت صاحب نے کسی کا جنازہ پڑھا ہے یا نہیں۔ایسے قریبی رشتہ دار باپ بھائی اور بیٹا وغیرہ ہوتے ہیں۔آپ کے بھائی باپ تو آپ کے دعوئی سے پہلے ہی فوت ہو چکے تھے ہاں بیٹا آپ کی زندگی میں فوت ہوا ہے فضل احمد اس کا نام تھا۔اس کی