خطبات محمود (جلد 4) — Page 292
خطبات محمود جلد ۴ ۲۹۲ سال ۱۹۱۵ء اللہ اور خشیت اللہ کا نام و نشان مٹا دینا چاہتے ہیں۔اور اگر ایک طرف زبر دست آسمانی حملوں سے خدا تعالی کی تعلیم کی سچائی اور پر حکمت ہونا ثابت ہوتا ہے تو دوسری طرف شیطان بھی طرح طرح کے مکروں اور حیلوں سے تعلیم کو مٹانا چاہتا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَمَا اَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رَّسُولٍ وَلَا نَبِي إِلَّا إِذَا تَلَى الْقَى الشَّيْطَنُ فِي أَمْنِيّته - کہ کوئی رسول اور نبی ایسا نہیں گزرا کہ جب اس نے کسی کام کے کرنے کا ارادہ کیا ہو تو جھٹ شیطان نے اس کے کام میں روکیں نہ ڈال دی ہوں تا کہ وہ کامیاب نہ ہو سکے۔بہت سے نادان لوگوں نے اس آیت سے ٹھو کر کھائی ہے اور بعض نے تو اس آیت کے ایک غلط معنے کر کے ان کی تائید میں جھوٹی حدیثیں بھی پیش کر دی ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ آنحضرت سان سیستم سورۃ نجم پڑھ رہے تھے کہ آپ کی زبان سے ایک شرک کا کلمہ جاری ہو گیا اس لئے آپ نے سجدہ کیا۔آنحضرت مایا کیا تم نے تو اس لئے سجدہ کیا کہ آپ سے شرک کا کلمہ جاری ہو گیا ہے اس کی تلافی ہو جائے لیکن مشرکوں نے اس خوشی میں سجدہ کیا کہ آپ کی زبان سے ایسا کلمہ نکلا ہے۔اس غلط واقعہ کی تائید میں یہی آیت پیش کی جاتی ہے۔اور پھر کہتے ہیں کہ جب کوئی نبی وحی پڑھنے لگتا تھا تو شیطان دھوکا سے اس میں کچھ ملا دیا کرتا تھا لیکن یہ بات ایسی گندی اور بیہودہ ہے کہ اس کے ماننے سے تمام انبیاء کی تعلیم پر پانی پھر جاتا ہے اور کسی شریعت کا نام ونشان بھی نہیں رہ جاتا کیونکہ پھر کوئی انسان یہ نہیں سمجھ سکتا کہ وحی کا فلاں حصہ شیطان کا ڈالا ہوا ہے یا رحمن کا اس لئے اس عقیدہ کو رکھنے سے شریعت بالکل باطل ہو جاتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی قدرو عظمت اور جلال اٹھ جاتا ہے۔پس سچی اور پاک بات یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب کوئی نبی یارسول کسی کام کا ارادہ کرتا ہے تو شیطان اس میں روکیں ڈالتا ہے اور چاہتا ہے کہ نبی اپنے ارادہ میں کامیاب نہ ہو۔شیطان کئی طرح کے فتنے کھڑے کر دیتا ہے تاکہ لوگوں کو حق سے دور لے جائے اور قریب نہ آنے دے۔لیکن جب شیطان کی ذریت یعنی شریر انسان ایسی شرارتیں کرتے ہیں کہ لوگوں کو حق سے دور ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں اور نبی کی ناکامی میں کوشاں ہوتے ہیں تو اللہ فَيَنْسَحُ اللهُ مَا يُلقى الشَّيْطَنُ ثُمَّ يُحْكِمُ اللهُ أَيْتِهِ وَاللهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ ان دھوکا دینے والوں کی کارروائیوں اور کوششوں کو مٹا دیتا ہے اور انبیاء اور رسولوں کے کاموں کو ترقی دیتا ہے۔خدا کی طرف سے انبیاء کی معرفت جو نشان آتے ہیں ان کو قائم کرتا ہے۔انبیاء کی بات اور ارادہ کو مضبوط کرتا