خطبات محمود (جلد 4) — Page 272
خطبات محمود جلد ۴ ۲۷۲ سال ۱۹۱۵ء خدا زندہ خدا ہے۔وہ قادر ہے اسے طاقت ہے جو چاہے کرے۔وہ ہر ایک امر کا آسانی سے فیصلہ کر دیتا ہے۔یہ بھی اللہ تعالیٰ سے درخواست کریں۔میں بھی درخواست کرتا ہوں کہ وہ اس کا فیصلہ صادر فرمائے اور حق کو حق اور باطل کو باطل ظاہر کر دے۔میں کسی کو بددعا نہیں دیتا بلکہ میرا مذہب تو یہ ہے کہ جب تک خدا تعالیٰ کی طرف سے اجازت نہ ملے یا خدا تعالیٰ کوئی کلمہ زبان سے نہ نکلوا دے ( یعنی زبان پر بے ساختہ کلمات جاری نہ ہوتی جائیں ) تب تک بددعا کرنا نا جائز ہے۔میں دعا کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ حق کو باطل سے الگ کر دے خواہ کسی طریق سے ہو۔مجھ پر حملے کرتے ہیں۔میں کہتا ہوں میں نے کب اپنے آپ کو پاک کہا ہے۔میں یہ نہیں کہتا کہ میری خدمات ایسی ہیں۔خدا تعالیٰ نے یہ ایک خدمت میرے سپرد کر دی ہے میں نے اس سے اس کی درخواست نہیں ہے کی۔خدا نے مجھے خود خلیفہ بنادیا۔خدا تعالیٰ نے مجھے قبل از وقت ایسی خبریں بتلائیں جو بتلاتی تھیں کہ میں خلیفہ نے ہوں گا۔بعد میں بھی اس نے مجھے ڈھارس دی کہ میں حق پر ہوں۔میں نے اگر اپنی خلافت دھوکے سے منوائی ہے تو آئیں فیصلہ کر لیں۔اگر یہ فیصلہ کیلئے بھی نہ آویں تو خدا خود فیصلہ کرے گا۔میں نے ان تمام لوگوں کو جن کو تھی میرے ساتھ تعلق ہے اور جنہوں نے میری بیعت صداقت اور صدق دل سے کی ہے نفاق اور شرارت سے نہیں کی ، کہتا ہوں کہ وہ ساتھ مل کر دعا کریں کہ خدا تعالیٰ حق کو باطل سے علیحدہ کر دے، چالیس دن تک وہ اس دعا میں لگے رہیں۔میں پھر کہتا ہوں کہ بددعا کسی کیلئے نہ کریں۔خدا تعالیٰ سے یہ طلب کرو کہ وہ خود صادق کو کا ذب سے الگ کر دے اور ان میں فرق کر دے۔اگر خلافت حق ہے تو اسے قائم کر دے اور دشمنوں کو ذلیل کرے۔پھر خدا ایسے سامان کر دے کہ حق و باطل علیحدہ ہو جاوے۔چالیس دن میں نے اس لئے کہا ہے کہ چالیس کا عدد تکمیل کو چاہتا ہے۔حضرت موسی سے تیس رات کا وعدہ فرما یا لیکن پھر دس روز بڑھا کر چالیس کو پورا کر دیا۔پس چالیس دن تک دعا میں لگے رہیں۔بددعا نہ کریں بلکہ دعا کریں کہ خدا تعالیٰ جلد حق کو باطل سے جدا کر کے جھوٹوں کا جھوٹ ظاہر کرے۔خدا تعالیٰ اپنی تمام محبوب چیزوں کے واسطہ سے، اپنے پیارے رسول صلی ای یتیم کے واسطہ اور اپنے کلام برحق قرآن کریم کے واسطہ سے ، وہ قدوس ہے اپنی قدوسیت کے واسطہ سے ، وہ سبحان ہے، وہ صادق ہے، وہ صدق کو چاہتا ہے، وہ اپنی تمام صفات پاک کے طفیل سے