خطبات محمود (جلد 4) — Page 268
خطبات محمود جلد ۴ ۲۶۸ سال ۱۹۱۵ء مومن تو ہر ایک بات اور ہر ایک حکم میں خواہ اس کی مرضی کے مطابق ہو یا نہ ہو خدا تعالیٰ کی رضامندی کے حاصل کرنے کی سعی اور کوشش کرتا ہے۔یہ بہت گندی مرض ہے کہ جو بات اپنی مرضی کے مطابق دیکھی اس کو مان لیا اور جو خلاف ہوئی اس کو ترک کر دیا۔مومن خدا تعالیٰ کے احکام میں اپنی مرضی نہیں دیکھتے وہ ہر بات میں خدا تعالیٰ کی مرضی کو مد نظر رکھتے ہیں۔حضرت خلیفہ المسیح الاول فرماتے تھے کہ ایک شخص زانی تھا۔میں نے اس کو نصیحت کی کہ یہ کام چھوڑ دے۔وہ کہنے لگا میں نے اس عورت سے عہد کیا ہوا تھا کہ تم سے بیوفائی نہیں کرونگا اچھا اب آپ فرماتے ہیں تو میں بیوفائی کا جرم کر لیتا ہوں۔اس شخص نے بیوفائی اور عہد کے توڑنے کو تو گناہ سمجھا لیکن زنا کرنے کے وقت اسے کسی گناہ کا خیال نہ آتا تھا۔تو بعض انسان ایسے ہوتے ہیں کہ ایک حد تک جب اپنی خواہشات کو پورا کر لیتے ہیں اور جوش نکال لیتے ہیں تو پھر کسی چھوٹی سی بات کے متعلق کہہ دیتے ہیں کہ چونکہ خدا تعالیٰ کا حکم اس کے خلاف ہے اس لئے ہم اس گناہ کے مرتکب نہیں ہوتے۔لیکن مومن کیلئے ضرورت ہے کہ وہ ہر وقت ہوشیار رہے اور خدا تعالیٰ کے تمام حکم خواہ وہ بڑے ہوں یا چھوٹے ، اس کی مرضی کے مطابق ہوں یا خلاف، سب میں فرمانبرداری اور اطاعت کرے اور کسی بات کی بھی خلاف ورزی نہ کرے۔اللہ تعالیٰ ہم سب لوگوں کو اپنے تمام احکام کی فرمانبرداری کرنے کی توفیق دے اور ہر قسم کی نافرمانی سے بچائے۔ل البقرة: ٨٦٨٥ الفضل ۲۱ جنوری ۱۹۱۵ء)