خطبات محمود (جلد 4) — Page 258
خطبات محمود جلد ۴ ۲۵۸ سال ۱۹۱۴ء نہ لاؤ جو مہمان کی ہتک کرتا ہے وہ اپنی ہی بہتک کرتا ہے کیونکہ مہمان اس کی عزت ہوتا ہے۔پس اس سے احمق کون ہے جو اپنی عزت آپ برباد کرے یا اپنا گلا آپ ہی کاٹے۔تم لوگ ہر طرح سے مہمانوں کی خاطر اور تواضع میں لگے رہو۔اللہ تعالیٰ نے توفیق دی تو میں آپ لوگوں کو درد کی باتیں سناؤں گا۔یہاں ہی کسی نے کہا تھا کہ ہمارے جانے کے بعد یہاں عیسائی پھریں گے۔اللہ تعالیٰ کا کتنا فضل ہے کہ آج یہاں مسلمان ہی اُترے ہوئے ہیں۔میں امید کرتا ہوں کہ جلسہ کے ایام میں لوگ ٹھہریں گے۔اللہ جن کو توفیق دے گا میری باتیں سنیں گے اور میں سناؤں گا۔( دوسرا خطبہ جمعہ پڑھتے ہوئے حضور نے فرمایا:) مجھے ایک اور خیال آیا ہے اور وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جلسہ کے ایام میں ذکر الہی کرو۔اس کا فائدہ خدا تعالیٰ نے یہ بتایا ہے کہ اُذْكُرُوا اللهَ يَذْكُرُكُھ۔اگر تم ذکر الہی کرو گے تو خدا تمہارا ذکر کرنا شروع کر دے گا۔بھلا اس بندے جیسا خوش قسمت کون ہے جس کو اپنا آقا یاد کرے اور بلائے۔ذکر الہی تو ہے ہی بڑی نعمت، خواہ اس کے عوض انعام ملے یا نہ ملے۔پس تم ذکر الہی میں مشغول رہو۔الفضل ۳۔جنوری ۱۹۱۵ء) تا ۴ البقرة : ١٩٨ هي البقرة: ٢٠١