خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 201 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 201

خطبات محمود جلد ۴ ۲۰۱ سال ۱۹۱۴ء پر خداوند تعالیٰ نے اتنا فضل کیا تھا کہ اسلام کی بنیاد ہی لا الهَ إِلَّا اللہ پر رکھی تھی یعنی اس بات پر کہ خدا کے سوائے کوئی معبود نہیں کوئی چیز قابل پرستش نہیں ہو سکتی کسی چیز میں خدا کی صفات نہیں آسکتیں اور خدا اپنی صفات کو دوسروں میں تقسیم نہیں کرتا پھرتا۔وہ قادر مطلق ہے وہ ہر ایک کام کو خود کر سکتا ہے اس کو کسی کی مدد کی ضرورت نہیں ہے مگر باوجود اس کے کہ اسلام کی بنیاد لَا إِلَهَ إِلَّا اللہ پر تھی آج جس قدر شرک مسلمانوں میں پایا جاتا ہے اور قوموں کی نسبت بہت کم ہے۔مسلمان قبروں پر ایسی صفائی اور بغیر کسی قسم کے حجاب کے سجدہ کرتے ہیں کہ خدا کے آگے سجدہ کرنے والوں میں اور ان میں ذرا بھی فرق نہیں رہ جاتا۔مجھے اس بات پر سخت تعجب آیا کرتا تھا کیا کبھی کوئی مسلمان بھی قبر پر سجدہ کر سکتا ہے۔میں باوجود متواتر شہادتوں اور کھلی باتوں کے اس بات پر یقین نہیں کیا کرتا تھا۔لیکن ایک دفعہ جب ہم چند آدمی ہندوستان میں اسلامی مدارس دیکھنے کیلئے گئے تو لکھنو میں فرنگی محل کا مدرسہ دیکھ کر دل بہت خوش ہوا۔اچھے لائق اور عالم استاد تھے۔ہوشیار اور ذہین شاگرد معلوم ہوتے تھے اس مدرسہ کے دیکھنے کے بعد ہم دیگر مدارس کو دیکھ کر جب شام کو واپس مکان پر آرہے تھے تو ایک قبر کے سامنے جو آدمی پورا پورا سجدہ کر رہا تھا وہ فرنگی محل کے مدرسہ کے ایک مولوی صاحب تھے۔مجھے اس کو دیکھ کر بہت تعجب ہوا کہ اس نے علم پڑھ کر اس کی کچھ بھی قدر نہ کی۔قبروں پر سجدہ کرنا تو الگ رہا اپنی نفس پرستی ، عیش و آرام پرستی ، دنیا پرستی ، رسم و رواج پرستی میں جس قدر شرک کیا جاتا ہے اسکی تو کوئی حد ہی نہیں۔مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں اس لئے شرک کا ذکر نہیں سنایا تھا کہ یہودی کیا کرتے تھے بلکہ اس لئے سنایا تھا کہ ایک دن ایسا ہی آنا ہے جب کہ تم نے بھی اس طرح کرنا ہے۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہود سے ہم نے یہ اقرار لیا تھا والدین کے ساتھ احسان کرنا۔یہ بات اس زمانہ میں مسلمانوں میں سے بالکل مٹ گئی ہے۔یہ تو ضروری سمجھا جاتا ہے کہ والدین اولاد سے نیک سلوک کریں ، ان کی پرورش کریں ، ان پر اپنا مال صرف کریں لیکن یہ ضروری نہیں سمجھا جاتا کہ اولا د بھی والدین پر احسان کرے اور ان کی خدمت بجالائے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ والدین کی خدمت کرنے کا عہد ہم نے یہود سے لیا تھا لیکن انہوں نے توڑ دیا۔پھر یہ عہد لیا تھا کہ قریبیوں، یتیموں ، اور مسکینوں کے ساتھ نیک سلوک کرنا۔پھر تمام