خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 202 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 202

خطبات محمود جلد ۴ ۲۰۲ سال ۱۹۱۴ء دنیا میں جس قدر لوگ ہیں ان کو نیک باتیں کہنا۔یہ کیا اچھی اور عمدہ تعلیم تھی۔کوئی بوجھ نہ تھا کوئی عقل کے خلاف بات نہ تھی۔لیکن آج مسلمانوں نے اسی صاف اور سیدھی تعلیم کو بگاڑ کر کہاں سے کہاں تک پہنچا دیا۔کوئی انسانی طاقت اور ہمت سے باہر کام نہ تھا۔مگر باوجود ایسی اعلی تعلیم اور اکمل تعلیم کے مسلمانوں نے اس کو چھوڑ دیا۔پھر حکم تھا کہ نماز پڑھو یعنی خدا کی عبادت کرو لیکن دیکھ لو کہ کئی کروڑ انسان مسلمان ای کہلاتے ہیں مگر ایسے بہت کم ہیں جو نماز پڑھتے ہیں۔پھر حکم تھا کہ زکوۃ دو مگر بہت تھوڑے ہیں کہ اس کے پابند ہیں۔اللہ تعالیٰ یہود کی نسبت فرماتا ہے کہ وہ احکام کو سن کر پھر گئے اور ان پر عمل نہ کیا۔اسی طرح اب مسلمانوں نے کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے احکام سے اکثر پھر گئے ہیں اور ان احکام کو پیچھے چھوڑ کر بہت آگے نکل گئے ہیں۔گندے سے گندا انسان بھی یہ کہنے میں ہر گز نہیں جھجکتا کہ میں متقی اور پرہیز گار ہوں لیکن عمل ایک ایسی چیز ہے جو کہ اصلیت کو ظاہر کر دیتی ہے۔خدا تعالیٰ قرآن شریف میں منافقین کی نسبت فرماتا ہے کہ جب وہ باتیں کرتے ہیں تب تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ دین سے ان کو بہت گہرا تعلق ہے لیکن جب ان کی کے عمل کو دیکھا جائے تو کچھ بھی نہیں ہوتا۔تو کسی چیز کا کھرا اور کھوٹا ہونا اس کے عمل سے ظاہر ہوتا ہے۔دنیا میں کوئی ایسا مذہب نہیں جس کے پیرو اس کو جھوٹا سمجھتے ہوں حتی کہ وہ لوگ جو نہایت ہی بدترین مذہب رکھتے ہیں یعنی پاخانہ تک کھا لیتے ہیں اور عورت و مرد کی شرمگاہوں کی پرستش کرتے ہیں وہ بھی یہی دعویٰ کرتے ہیں کہ ہمارے مذہب جیسا کوئی اور مذہب پاک اور پوتر نہیں ہے۔۔تو اگر ایک مسلمان بھی اسی مذہب کے پیرو کی طرح صرف زبان سے کہتا کہ ہمارا مذہب سچا ہے اور اس بات کی اپنے عمل سے تصدیق نہیں کرتا۔اور لوگوں کو اپنا عمدہ نمونہ نہیں دکھاتا تو اس میں اور ایک وام مارگی میں کچھ بھی فرق نہیں ہے۔وہ بھی گند بدکاری اور طرح طرح کی پلیدیوں میں مبتلاء ہے اور یہ بھی۔تو پھر اسلام کی خوبی کسی کو کیا معلوم ہوسکتی ہے۔ہمیشہ وہی بات اعلیٰ اور عمدہ ہوتی ہے جو تجربہ سے اعلیٰ ثابت ہو۔اگر ایک شخص اسلام کی صداقت کا مدعی ہے۔اور وہ خود اس کی تعلیم پر عمل نہیں کرتا تو وہ بہ نسبت اس کے جس کے مذہب میں کوئی خوبی نہیں زیادہ مجرم ہے۔اس وقت مسلمان ذی القربی کو شریکہ یعنی دشمنی کا باعث سمجھتے ہیں اللہ تعالیٰ نے جن کے ساتھ نیک سلوک کرنے کا حکم دیا تھا ان سے دشمنی اور لڑائی جھگڑے کئے جاتے ہیں۔