خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 163 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 163

خطبات محمود جلد ۴ (۳۷) قصاص سے لوگوں کی زندگی محفوظ ہو جاتی ہے (فرموده ۲۸۔اگست ۱۹۱۴ء) سال ۱۹۱۴ء تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد حضور نے ان آیات کی تلاوت کی :۔وَإِذْ قَتَلْتُمُ نَفْسًا فَاللَّدَ تُمْ فِيهَا وَاللهُ مُخْرِجٌ مَّا كُنْتُمْ تَكْتُمُونَ فَقُلْنَا اضْرِبُوهُ بِبَعْضِهَا كَذَلِكَ يُحْيِ اللَّهُ الْمَوْلَى وَيُرِيكُمْ أَيْتِهِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ اس کے بعد فرمایا:۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہود کو مخاطب کر کے فرمایا ہے کہ تم نے قتل کیا ایک نفس کو اور اپنی طرف سے بڑی احتیاط کی کہ اس کا پتہ نہ لگ سکے اور قاتل کا پتہ نہ چلے۔بہت خفیہ درخفیہ تدابیر کے ماتحت اسے چھپانا چاہا۔مگر پھر جس چیز کو خدا ظاہر کرنا چاہے اسے کون چھپا سکتا ہے۔کیسی بار یک در بار یک خفیه در خفیہ کارروائی کیوں نہ ہو۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے جب یہ فیصلہ ہو جاوے کہ اس کو ظاہر کر دیا جاوے تو کون ہے جو اسے پوشیدہ رکھ سکے۔تم نے کوشش کی کہ اس کو چھپاؤ مگر ہم نے اس کو ظاہر کر دیا۔اور صرف ظاہر ہی نہیں کیا بلکہ اس قاتل کو سزا بھی دلوا دی۔ہم نے حکم دیا کہ اس قاتل کو قتل کر دیا جاوے اور یہ قاتل کو قتل کرنے کی سزا بیہودہ نہیں بلکہ دنیا کی زندگی اس سے وابستہ ہے۔جو شخص کسی کو بلا وجہ اور بلا کسی قصور کے قتل کر دے اس کو اس سے یہ دلیری ہو جاتی ہے کہ اوروں کو بھی قتل کر دے۔تعداد کا معاملہ الگ ہے اس کی جرات اور اس کے دل کی حالت یہ چاہتی ہے کہ وہ ہزاروں کو بھی قتل کر سکے تو جو شخص ایک دفعہ ایسی جرات کرے دنیا کی زندگیاں اس کی