خطبات محمود (جلد 4) — Page 107
خطبات محمود جلد ۴ 1۔6 (۲۵) سال ۱۹۱۴ء خدا تعالیٰ کی عظمت اور جبروت کا ہمیشہ خیال رکھو (فرمودہ:۵۔جون ۱۹۱۴ء) تشہد ، وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد مندرجہ ذیل آیات کی تلاوت کی:۔وَاذْ قُلْتُمْ يَمُوسى لَن نُّؤْمِنَ لَكَ حَتَّى نَرَى اللهَ جَهْرَةً فَأَخَذَتْكُمُ الصَّعِقَةُ وَاَنْتُمْ تَنْظُرُونَ ثُمَّ بَعَثْنَكُمْ مِّنْ بَعْدِ مَوْتِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ اس کے بعد فرمایا:۔بہت سی باتیں دنیا میں ایسی ہوتی ہیں کہ حقیقت میں تو ان کے منہ سے نکالنے میں کوئی حرج نہیں لیکن ان کی طرز ادا ہلاک کر دینے والی ثابت ہوتی ہے۔حضرت خلیفہ المسیح فرمایا کرتے تھے کہ ایک شخص نے ایک راجہ صاحب کے متعلق لکھا کہ فلاں جگہ جلسہ ہوا تھا جہاں سے راجہ صاحب دُم دبا کر بھاگ گئے۔جب راجہ صاحب نے یہ پڑھا تو اس پر بہت ناراض ہوئے۔میں نے سمجھا کہ اس آدمی کو اردو نہیں آتی۔اس نے واپس چلے جانے کو ان الفاظ میں بیان کیا ہے۔راجہ صاحب نے اس کو بلایا۔تو میں نے پوچھا کہ کیا تم کوئی اخبار پڑھا کرتے ہو۔اس نے کہا کہ ہاں پنچ اخبار پڑھا کرتا ہوں۔میں نے کہا کہ اس نے اس اخبار میں یہ فقرہ پڑھا ہے جس کو غلطی سے اس نے استعمال کر دیا ہے۔اس لئے معافی کے قابل ہے۔سو بعض باتوں کا غلط طور پر ادا کرنا تباہی اور ہلاکت کا باعث ہو جاتا ہے۔وہ انسان جونا واقفیت کی وجہ سے ایسا کرتا ہے وہ تو بخشا جاتا ہے لیکن جو شرارت کی وجہ سے ایسا کرتا ہے وہ ہلاک ہو جاتا ہے۔ہم دیکھتے ہیں کہ وہی بات غلط طریق پر ادا کرنے سے نقصان اٹھانا پڑتا ہے وہی