خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 535 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 535

خطبات محمود جلد ۴ ۵۳۵ سال ۱۹۱۵ء اس کا نام مٹا نہیں سکے گا۔دیکھ لو آنحضرت ملائی کہ ہم تو خاتَمَ النَّبِین تھے۔آپ کا کیا ذکر ہے دوسرے لوگوں کو دیکھو جو قرآن کریم پر چلے کہ کتنا ان کا ذکر بلند ہوا۔آج اگر کوئی سکندر جیسے عظیم الشان بادشاہ کوعلی الاعلان گالیاں نکالے تو نکال سکتا ہے یا گشتاسپ اور طهماسپ کو برا بھلا کہنا چاہے تو کہہ سکتا ہے۔فراعنہ مصر اور قیاصرہ قسطنطنیہ کو گالیاں دے سکتا ہے اور کوئی بہتھکڑی اس کے ہاتھوں میں نہیں پڑتی مگر اسلام کے بزرگوں کو کوئی گالیاں دے تو اسے معلوم ہو جائے کہ مسلمانوں کو کس طرح جوش آتا ہے اور ایک ایسی حکومت بھی جس کا اور مذہب ہے اس کے گرفتار کرنے کیلئے تیار ہو جاتی ہے۔حالانکہ اگر حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ آنحضرت صلی ایم کی اتباع نہ کرتے تو ان کی کیا حیثیت تھی ایک معمولی تاجر تھے لیکن جب وہ قرآن کریم کی تعلیم پر چلے تو لاکھوں آدمی ان کیلئے جانیں قربان کرنے کیلئے تیار ہیں۔تو یہ ذکر بلند ہوا جو اور کسی کو حاصل نہ ہوا۔اس سے زیادہ حضرت مسیح موعود کو دیکھ لو۔قادیان کی کیا ہستی تھی اور کون اسے جانتا تھا لیکن خدا تعالیٰ کی ایسی تائید اور نصرت ہوئی کہ جو کسی اور شہر کو حاصل نہ ہوئی۔جانتے ہو یہ کس طرح ہوئی۔اس طرح کہ ایک شخص نے ایسے وقت میں اس کے مشہور عام ہونے کے متعلق کہا جبکہ اس شخص کو گاؤں کے لوگ بھی نہ جانتے تھے اور پاس پاس کے گاؤں والے بھی نا واقف تھے۔آپ ایک مجرے میں بیٹھنے والے تھے لیکن دیکھتے ہو اب وہی انسان ہے جو تمام دنیا میں بلند ہو گیا ہے۔انگلستان کے عوام لوگ جو نشہ حکومت میں ہندوستانیوں کو کالے لوگ کہتے ہیں ان میں سے بیجوں نے آپ کی غلامی کو اپنے لئے فخر سمجھا ہے۔انہی میں سے ایک نے مجھے لکھا ہے کہ میں کبھی نہیں سوتا جب تک کہ احمد مسیح موعود پر درود نہ بھیج لوں۔تو چونکہ اس انسان نے قرآن کریم کا عملی نمونہ پورے طور پر دکھایا۔اس لئے وہ لوگ جو اپنے آپ کو ذی وجاہت اور صاحب عزت سمجھتے تھے اور بڑے بڑے ہندوستانیوں کو کالا آدمی کہتے تھے ، وہ نہیں سوتے مگر آپ پر درود بھیج کر تھوڑا ہی عرصہ ہوا ولایت سے ایک عورت نے لکھا تھا کہ ایک رات میں نے ٹیچنگز آف اسلام Teachings of Islam) کو پڑھا۔اور پڑھ کر میری نیند اُڑ گئی اور میں ساری رات جاگتی رہی میں تھوڑا سا پڑھتی اور پھر غور کرتی کہ کیا ایسا لکھنے والا کوئی انسان دنیا میں ہو سکتا ہے۔پھر وہ لکھتی ہے کہ کاش ! وہ پاک انسان زندہ ہوتا تو میں اس کو ہاتھ ہی لگا لیتی۔اور مجھے پورا یقین ہے اگر ہاتھ لگاتی تو روحانیت بجلی کی طرح میرے جسم میں داخل