خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 536 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 536

خطبات محمود جلد ۴ ۵۳۶ سال ۱۹۱۵ ہو جاتی۔اچھا اگر میں نے اس کو نہیں دیکھا تو یہی شکر ہے کہ اس کے دیکھنے والے کو ہی دیکھ لیا ہے۔( یعنی چوہدری فتح محمد صاحب کو ) تو یہ ذکر بلند ہوتا ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ - ا - مسلم ! تیرا ذکر بہت ہی بلند کیا جائے گا۔یہ کتنا بڑا انعام ہے پھر فرمایا۔فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا إِنَّ مَعَ العُسْرِ يُسْرًا۔بعض آدمی ایسے ہوتے ہیں جن کا ذکر تو بلند ہو جاتا ہے لیکن ان کی ذات کو اس سے کچھ فائدہ نہیں پہنچتا۔جیسے ایک فوجی آدمی اپنی بہادری اور جانثاری سے بہت بڑی فتح حاصل کر لے لیکن ساتھ ہی مارا بھی جائے تو گو اس کا نام مشہور ہو جائے گا لیکن اس کو کچھ فائدہ نہ ہوگا۔اسی طرح یہاں بھی کسی کو خیال ہوسکتا تھا کہ ممکن ہے کہ میرا نام تو بلند ہو جائے لیکن مجھے کوئی فائدہ نہ پہنچے۔اس لئے فرمایا اے مسلم ! تو یہ خیال مت کر کہ اس رستہ میں تجھے کوئی غم ، تکلیف اور دکھ اس قسم کا بھی آئے گا جس کا تجھے فائدہ نہ پہنچے گا۔دنیا کے لوگ سکھ حاصل کرنے کیلئے بڑی بڑی محنتیں کرتے اور تکلیفیں اٹھاتے ہیں اور پھر بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ وہ کچھ فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔لیکن ہمارے راستہ میں اگر ایک دکھ اور تکلیف برداشت کرنی پڑے تو ہم اس کے بدلہ میں دو سکھ دیں گے اور کوئی ذراسی محنت اور کوشش بھی رائیگاں نہیں ہے جانیں دیں گے۔دیکھو اس لڑائی میں بہت بڑی تعداد انسانوں کی ماری جا چکی ہے لیکن طرفین سے ابھی تک کوئی نہیں تھکتا۔کیوں؟ اس لئے کہ وہ کہتے ہیں کہ دنیاوی کامیابی حاصل ہو لیکن دیکھو خدا تعالیٰ فرماتا ہے ہم ایک دکھ کے بدلہ تجھے دو سکھ دیں گے۔یعنی ایک سکھ اس دنیا میں اور ایک آخرت میں۔پس اے مسلم ! تو سوچ کہ تجھے دین اسلام کے پھیلانے میں کس قدر محنت اور کوشش کرنی چاہئیے۔فَإِذَا فَرَغْتَ فَانْصَبْ۔لیکن ہم یہ نہیں کہتے کہ تو دنیا کے کاروبار کو چھوڑ کر بیٹھ جا اور کوئی کام نہ کر بلکہ جب تو ان کاموں سے فارغ ہوئے تو تجھے چاہیے کہ خدا کے ملنے اور اس کا قرب حاصل کرنے کیلئے کوشش کرے۔خدا تعالیٰ انسان کو فرماتا ہے کہ ہم تجھ سے اتنی قربانی نہیں چاہتے کہ سب کچھ چھڑا دیں بلکہ ہم یہ کہتے ہیں کہ یہ بھی کرو اور ہمارے ملنے کی کوشش بھی کرتے رہو۔یہ خدا تعالیٰ نے انسان کیلئے آسانی کر دی ہے۔دنیا کے کام اس طرح نہیں ہوتے کہ دو کاموں میں انسان مصروف رہے۔مثلاً اس طرح کہ فوجی سپاہی لڑے بھی اور کوئی دوسرا کام بھی کرے۔یا طالب علم پڑھے بھی اور محنت مزدوری بھی کرے۔لیکن خدا تعالیٰ