خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 514 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 514

خطبات محمود جلد ۴ ۵۱۴ سال ۱۹۱۵ء در حقیقت ان کو خدا تعالیٰ سے ذرا بھی تعلق نہیں ہوتا۔پھر خدا تعالیٰ ایسے دو طرفہ تعلق رکھنے والے انسانوں کو کبھی پسند نہیں کرتا اور باوجود دین سے تعلق رکھنے کے وہ کسی کا میابی کا منہ نہیں دیکھ سکتے۔ان کے مقابلہ میں کفار جو یکطرفہ تعلق رکھنے والے ہوتے ہیں خدا تعالیٰ ان کو ترقی دیتا اور کامیاب کرتا چلا جاتا ہے۔حضرت اقدس علیہ السلام فرمایا کرتے تھے کہ جب ترکوں نے بغداد پر حملہ کیا تو اٹھارہ لاکھ آدمی انہوں نے قتل کئے اور ایسی تباہی مچائی جس کا کوئی ٹھکانہ نہیں۔پھر فرماتے تھے کہ ایک شخص ایک ولی اللہ کے پاس آیا اور عرض کیا کہ دعا کریں کیونکہ مسلمان تباہ اور ہلاک ہورہے ہیں اور کفار نے تمام بڑے بڑے آدمیوں کو قتل کر دیا ہے تو اس وقت اس نے کہا کہ میں جب آسمان کی طرف دعا کیلئے ہاتھ اٹھا تا ہوں تو ملائکہ کی طرف سے یہ آواز آتی ہے۔أَيُّهَا الْكُفَّارُ : اقْتُلُوا الْفُجّار اے کا فرو۔ان فاجروں کو مارو۔حالانکہ ان دونوں فریقوں میں بڑا فرق تھا۔ایک خدا کو ماننے والے تو دوسرے اس کے منکر۔ایک رسولوں اور اس کی کتابوں کو ماننے والے مگر دوسرے اس سے متنفر۔ایک دین کو ماننے والے اور دوسرے اس سے بیزار۔ایک قرآن کو ماننے والے اور دوسرے اس کو مٹانے والے۔اس میں کیا بھید ہے۔یہی تو ہے کہ کفار گو ایسے ظاہر دشمن ہیں کہ جن کے دل میں ذرا بھی ایمان نہیں وہ تو خدا کا انکار کرتے ہیں مگر یہ بات وجود ماننے کے پھر نہیں مانتے اور دین سے خارج ہیں مسلمان کہتے تو تھے کہ ہم میں ایمان ہے مگر دراصل ان کے میں ایمان نہ تھا۔لا إلهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللہ کہتے تھے مگر پھر ناکام و نا مراد تھے یہی بات تو تھی کہ ان کے ایمانوں میں دنیا کی محبت مل گئی تھی اور خدا تعالیٰ سے پورا تعلق نہیں رہا تھا اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ خالص ایمان رکھ کر خدا تعالیٰ کو نہیں پکارتے تھے بلکہ ان کا آہ وزاری کرنا کسی خاص مدعا اور مقصد کیلئے تھا وہ خدا کی عبادت کرتے تھے لیکن در حقیقت ان کی عبادت کسی خاص غرض کیلئے ہوتی تھی۔پس مومن کو چاہئیے کہ یکطرفہ تعلق رکھے۔اور ہر رنج، دکھ، تکلیف اور آرام میں غرض بہر حال خدا تعالیٰ سے راضی ہو۔بہت مسلمان جب کہ ان سے کہا جاتا ہے کہ تم نماز روزہ ادا کرو تو کہہ دیتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے ہم دیا کیا ہے جو اتنی مشقت میں پڑیں۔حالانکہ وہ احمق نہیں جانتے کہ جس منہ سے وہ یہ جواب دیتے ہیں اور جس دماغ سے سوچتے ہیں وہ بھی تو خدا ہی کا دیا ہوا تو ہے جب اس کے اس قدر احسان اور انعامات ہم پر ہیں تو کیا وجہ