خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 453 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 453

خطبات محمود جلد ۴ ۴۵۳ سال ۱۹۱۹ء والوں کیلئے بشارت اور نہ ماننے والوں کیلئے انذار کا باعث ہوئے۔پھر یہ بھی ماننا پڑے گا کہ کوئی مصلح بھی نہیں آسکتا اور خدا تعالیٰ کی طرف سے سوائے تبشیر کے اور کچھ نہیں آسکتا نہ مخلوق کی اصلاح کیلئے نہ علم کے بڑھانے کیلئے کیونکہ مبشرات کے سوا کچھ باقی نہیں رہا۔پھر یہ بھی ماننا پڑے گا کہ انبیاء کا جو یہ کام ہوتا ہے کہ لوگوں کا خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا کراتے ہیں جیسا کہ آنحضرت میان یا پیلم کی نسبت خدا تعالیٰ فرماتا ہے قُل اِن كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ الله کے یہ بھی بند ہو جائے گا۔اور کوئی شخص ایسا نہیں آئے گا جو لوگوں کا تعلق اللہ تعالیٰ سے قائم کرے۔پھر قرآن شریف میں نبی کے کاموں کی یہ تشریح آئی ہے کہ يَتْلُوا عَلَيْهِمُ ايَتِكَ وَيُعَلِّمُهُمُ الكتب وَالْحِكْمَةَ وَيُزكيهم شاہ بھی سب کام بند سمجھنے چاہئیں یعنی کتاب اور حکمت کو سکھانے والا اور لوگوں کو پاک کرنے والا کوئی بھی نہیں آسکتا۔صرف یہ کہنے والا آ سکتا ہے کہ فلاں کے گھر بیٹا ہوگا فلاں کو یہ خوشی ہوگی فلاں کو وہ ہو گی۔پس اگر مبشرات کو نبوت کا کوئی جز ٹھہراؤ گے تو یہ سب کچھ ماننا پڑے گا۔پس سوائے اس کے اور کوئی صورت نہیں کہ مبشرات کو نبوت کا ایک درجہ اور ایک قسم قرار دیا جائے۔ہمارا دعوئی ہے اور ہم خدا کے فضل سے قرآن اور تاریخ سے ثابت کر سکتے ہیں کہ ایسے نبی آئے ہیں جو شریعت نہیں لائے۔اب جب تک کوئی یہ ثابت نہ کر دے کہ تشریعی نبوت کے سوا اور کسی قسم کی نبوت نہیں اس وقت تک مبشرات کو نبوت کا جزو نہیں قرار دیا جاسکتا۔خواجہ صاحب کی علمی نادانی دیکھئے لکھتے ہیں لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيَوة الدنیات کے ماتحت ہم میں سے جو خدا کی نگاہ میں مومن ہوگا وہ مبشر ہو سکتا ہے اور اس لئے وہ آیت بالا کے ماتحت حسب استدلال میاں صاحب رسول ہے“ لیکن یہ بات خواجہ صاحب کے جاہل مطلق ہونے پر دال ہے اس آیت کے تو یہ معنے ہیں کہ مومنوں کو بشارت دی جاتی ہے یعنی خدا کی طرف سے ان کو بشارت ملتی ہے لیکن جس آیت سے میں نے حضرت مسیح موعود کی نبوت کا استدلال کیا ہے وہ یہ ہے مَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِينَ إِلَّا مُبَيِّرِينَ وَمُنْذِرِين جس کے معنی یہ ہیں کہ نبی کو یہ درجہ دیا جاتا ہے کہ وہ لوگوں کو بشارت دیتا ہے پس پہلی آیت تو یہ بتاتی ہے کہ ہم نبیوں کو نہیں بھیجتے مگر لوگوں کو بشارت دینے اور ڈرانے کیلئے۔اور دوسری آیت یہ بتاتی ہے کہ مومنوں کو خدا تعالیٰ سے بشارت ملتی