خطبات محمود (جلد 4) — Page 436
خطبات محمود جلد ۴ ۴۳۶ سال ۱۹۱۵ انسان کامیاب ہوتے ہیں اور جتنی قو میں ترقی کرتی ہیں وہ وہی ہوتی ہیں جن کی ہمت اور جوش نے وقت کو نہیں دیکھا۔خواہ دس برس لگیں یا ہمیں تیس یا چالیس پچاس، جب تک ان کا مدعا حاصل نہ ہو چھوڑتی نہیں۔یہ نہیں کہ ان میں وقتی جوش پیدا ہو گیا ہو۔بعض لوگ وقتی جوش سے کوئی اچھا کام کر لیتے ہیں لیکن گھر آ کر پچھتاتے ہیں۔مثلاً بعض لوگ کسی جلسہ میں دوسروں کو دیکھ کر خود بھی دے دیتے ہیں مگر گھر آ کر پچھتاتے ہیں اور کہتے ہیں چندہ نہ دیتے یا جتنا دیا اس سے کم دیتے تو اچھا ہوتا۔اس طرح جو ثواب انہیں ہونا ہوتا ہے وہ بھی ضائع ہو جاتا ہے۔اسلام جس طرف بلاتا ہے وہ وقتی جوش کا کام نہیں بلکہ موت تک انسان کو قربانی کرنے کیلئے بلاتا ہے اس لئے مومن پر کوئی وقت ایسا نہیں آتا کہ اسے قربانی کیلئے نہ بلایا جائے ہر حالت اور ہر وقت میں آسمانی آواز سے پکار پکار کر کہتی ہے کہ ابھی بڑا کام ہے خوب جوش سے لگے رہو۔ہماری جماعت نے جو کام شروع کئے ہیں ان کے کرنے میں بعض آدمی گھبرا جاتے ہیں کہ کیا ہم ہمیشہ ہی یہ کام کرتے رہیں گے۔ایسے نادان نہیں جانتے کہ انہیں نفس دھوکا دے رہا ہے۔یہ کام کچھ حقیقت نہیں رکھتے اور خدا تعالیٰ کو یہ مد نظر نہیں کہ کسی کا روپیہ خرچ کرا دے اور نہ یہ منظر ہے کہ کسی کا وطن چھڑا کر دوسرے ممالک کی سیر و تفریح کرا دے اور نہ اسے یہ منظور ہے کہ وقت خرچ کر کے اٹھیں بیٹھیں بلکہ وہ تو تم میں ایک ایسی طاقت پیدا کرنا چاہتا ہے کہ انسان کسی روک اور کسی مشکل کو خدا تعالیٰ کیلئے برداشت کرنے میں ہچکچائے نہیں اور اس کیلئے کسی وقت دشمن کے مقابلہ سے نہ ہٹے بلکہ ہر وقت ہتھیار تیز رکھے۔کیوں؟ اس لئے کہ ایک دشمن سے اس کا مقابلہ ہے وہ دشمن خواہ اپنا ہی نفس ہو یا دوسرے انسان یا شیطان ہو، ہر وقت اس کے سر پر موجود ہے۔ہمارے لئے جو کام ہے یعنی صداقت اسلام کو پھیلانا یہ کوئی آسان کام نہیں۔نہ کوئی مٹھائی ہے کہ اُٹھائی اور کھالی ، نہ کوئی کپڑا ہے کہ پہن لیا۔اس لئے یہ وقتی جوش کا کام نہیں بلکہ حقیقی جوش رکھنے والی جماعت کا کام ہے۔کیونکہ تمام دنیا کی اصلاح کا ایسا فرض ہے جس کے خلاف ساری دنیا زور لگا رہی ہے۔یہ تو ایسی ہی بات ہے کہ پندرہ ہیں مست ہاتھی چھوڑ کر ایک بچہ کو کہا جائے کہ ان کو پکڑو۔جانتے ہو اس بچہ کو کس قدر احتیاط کی ضرورت ہو گی۔پس وہ مست ہاتھی جنہیں بڑے بڑے تجربہ کار مہاوت رام نہیں کر سکے ان کے درمیان ہماری