خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 437 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 437

خطبات محمود جلد ۴ ۴۳۷ سال ۱۹۱۵ جماعت کو چھوڑ دیا گیا ہے۔جو بچہ کی طرح ہے اور مخالف لوگ مست ہاتھیوں کی طرح جو جھوٹی آزادی کو آزادی سمجھ کر خدا تعالیٰ کی فرمانبرداری سے بھاگے جاتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ جو انہیں اصل آزادی کی طرف لانا چاہتا ہے اسے کچل دیں۔آپ لوگ جانتے ہیں کہ جہاں مریض کو یہ خیال ہو کہ مجھے زہر پلایا جا رہا ہے وہاں ڈاکٹر کو کیسی دقت پیش آتی ہے۔بہت ہی زور ہو تو دوائی پلائی جاسکے۔ایک تو وہ مریض ہے جو سمجھے کہ میرا اعلاج ہورہا ہے وہ بھی دوائی پینے سے منہ بناتا، ناک بھوں چڑھا تا اور کہتا ہے دوائی بے مزہ ہے پینے کو جی نہیں چاہتا لیکن ایک ایسا مریض ہے جس کو یہ یقین ہو کہ وہ درد جو آگے میرے لئے مصیبت کا موجب ہو رہا ہے دوائی پینے سے دگنا ہو جائے گا یا اس دوائی کے حلق سے اُترتے ہی جان نکل جائے گی تو بتاؤ وہ مریض کس شدت سے ڈاکٹر کا مقابلہ کرے گا۔ایسے موقع کیلئے بڑا باہمت اور استقلال والا اور مد بر ڈاکٹر چاہیئے جو طرح طرح سے اسے پہلا کر اور نرم کر کے دوائی پلائے۔پس ہمارے سپر دبھی جو مریض ہیں وہ یہی سمجھتے ہیں کہ ہمیں زہر دیا جائے گا۔وہ مسیح موعود جو دنیا کو ہدایت کی طرف بلانے آیا تھا اس کا ذکر ان کے سامنے کرو تو فورا پتھر مارنے لگ جائیں گے۔وہ مسیح موعود جو دنیا کے آرام کا باعث تھا اسے دکھ کا باعث سمجھ رہے ہیں، وہ مسیح موعود جو سچائی کی طرف بلانے آیا تھا دنیا کو یقین ہے کہ وہ جھوٹ کی تعلیم دیتا ہے۔وہ مسیح جو شیطان کے پنجہ سے آزاد کرنے کیلئے آیا تھا دنیا سمجھ رہی ہے کہ اپنی غلامی میں جکڑنے کے لئے آیا اور دنیاوی عزت کیلئے لوگوں کو غلام بناتا ہے۔وہ مسیح “ جو خدا سے تعلق قائم کرانے کیلئے آیا تھا دنیا کو یقین ہے کہ وہ خدا سے دور کرنے آیا ہے پس ایسی صورت میں اگر ان کو سمجھایا جائے تو وہ مخالفت میں سارا زور لگاتے ہیں اور برداشت نہیں کرتے کہ ہمار انسخہ استعمال کریں۔ایسے موقع پر ہمیں کسی معمولی نہیں بلکہ بڑے بھاری استقلال کی ضرورت ہے۔پھر اگر کسی ڈاکٹر کے پاس ایک دو مریض ہوں تو وہ خیال کر سکتا ہے کہ دو گھنٹہ : چار گھنٹہ میں کام کر کے فرصت ہو جائے گی۔لیکن جہاں کروڑوں مریض ہوں ایسے موقع پر یہ خیال کرنا نادانی ہوگی کہ ہمارا کام ایک یا دو دن کا ہے کیونکہ یہ اصل میں صدیوں کا کام ہے اور اس کیلئے نسلیں در نسلیں آئیں گی اور ان کے ہاتھ خالی نہ ہوں گے کام زیادہ ہوگا اور آدمی تھوڑے، کیونکہ دینی کام تو کبھی ختم ہی نہیں ہوتا۔میں نے دیکھا ہے کہ جب کوئی قوم