خطبات محمود (جلد 4) — Page 373
خطبات محمود جلد ۴ ۳۷۳ سال ۱۹۱۵ء نہیں۔لیکن اگر اس نے کئے ہیں تو شاید وہ یہ عذر پیش کرے کہ بحث کرنے والے نے چونکہ آنحضرت سلیم کی شان میں گستاخی کی تھی اس لئے میں نے بھی ایسا کیا۔لیکن یہ وہی بات ہے جو ینھی عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ کے نیچے آتی ہے؟ کیا ایک آدمی کے حد سے بڑھنے سے دوسرے کو بھی بڑھ جانا چاہیئے ؟ کیا ایک کے فحشاء و مُنكَرُ سے باز نہ رہنے سے دوسرے کو بھی ایسا ہی کرنا چاہئیے ؟ ہر گز نہیں ! کیا کسی کا یہ عذر قابل پذیرائی ہو سکتا ہے کہ فلاں نے چونکہ جھوٹ بولا تھا اس لئے میں نے بھی بولا ہے۔فلاں نے چونکہ چوری کی تھی اس لئے میں نے بھی کی ہے۔فلاں نے چونکہ کفر بکا تھا اس لئے میں نے بھی اس کا ارتکاب کیا ہے اس قسم کے جواب تو دوزخی لوگ دیں گے ہمارے بڑوں نے چونکہ یہ کام کئے تھے اس لئے ہم نے بھی کئے۔پس یہ عذر بہت ہی نا معقول ہے اور اس طرح کی بات ہے جس طرح ایک آدمی جا رہا ہے اور اس کا ایک پاؤں کوئی زخمی کر دے تو دوسرے کو وہ خود اس لئے زخمی کرلے کہ ایک جو زخمی ہو گیا ہے ایسا کرنا کسی عقل مند آدمی کا کام نہیں ہوسکتا۔اگر بحث کرتے وقت کسی نے ایسی بات کہہ دی ہو جو اس کے پیشوا کی شان کے خلاف ہو تو اس کا ایسی ہی بات دوسرے کے اس پیشوا کو جو کہ اس کا بھی پیشوا ہے کہنا بہت نا معقول حرکت ہے۔ایک قصہ ہے تو گندا مگر اسی کے مناسب حال ہے۔کہتے ہیں ایک شخص نے کسی سے ایک ضرورت کے وقت کوئی برتن لیا اور بہت دنوں تک اپنے گھر ہی رکھ چھوڑا۔ایک دن برتن لینے والا برتن لینے گیا تو وہ شخص اس میں ساگ ڈال کر کھا رہا تھا۔یہ دیکھ کر اسے بہت برا لگا اور اپنا برتن لے کر کہنے لگا کہ تم نے ہمارے برتن میں ساگ ڈال کر کھایا ہے ہم تمہارے برتن میں نجاست ڈال کر کھا ئیں گے۔اس احمق نے یہ نہ سوچا کہ نجاست تم کھاؤ گے اس کے کا کیا نقصان ہوگا۔مومن کو بہت احتیاط کرنی چاہئیے کیا یہ کوئی انسانیت ہے کہ دو بھائی آپس میں لڑیں تو ایک دوسرے کو باپ کی گالی دے اور دوسرا اس کو ماں کی گالی دے دے۔ایک نے تو نادانی کی تھی لیکن دوسرے نے اس سے بڑھ کر نادانی کی۔اسی طرح اگر ایک یہودی حضرت مسیح کو گالی دے اور یہ سن کر کوئی عیسائی حضرت موسی علیہ السلام کو گالی دے دے تو یہ بہت ہی گندہ فعل ہے۔اسی طرح اگر کوئی آنحضرت سلائی یہ تم کو گالی دے تو کسی مسلمان کا یہ کام نہیں ہے کہ وہ اس کے معت ابلہ میں حضرت مسیح " ، حضرت موسیٰ حضرت اسحق " ، حضرت یعقوب،