خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 372 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 372

خطبات محمود جلد ۴ ۳۷۲ سال ۱۹۱۵ء مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے۔لیکن اگر ایسے رستوں پر چل رہا ہے اور ایسے دروازوں سے گزر رہا ہے جو خدا تعالیٰ نے اس کام کیلئے تجویز فرمائے ہیں تو اس کیلئے ضرور کامیابی ہے۔یہ راستے خدا تعالیٰ نے ہر ایک کام کیلئے مقرر کئے ہوئے ہیں خواہ وہ کام روحانی ہو یا جسمانی۔دیکھو انسان پر بیماریاں آتی ہیں اگر ان طریقوں پر ان کا علاج نہ کیا جائے جو ان کیلئے مقرر ہیں تو ہر گز شفاء نہیں ہو سکتی۔مثلاً بعض علاج ایسے ہوتے ہیں جو سینہ کی بیماری کیلئے مفید ہوتے ہیں اور بعض ایسے ہوتے ہیں جو معدہ کی بیماری کیلئے کارگر ہوتے ہیں لیکن اگر وہ علاج جو سینہ کی بیماری کیلئے ہے معدہ کی بیماری پر استعمال کیا جائے یا معدہ کا علاج سینہ کی بیماری پر برتا جائے تو ہر گز شفا نہیں ہوسکتی۔اسی طرح اگر آنکھ میں ڈالے جانے والی دوا، خواہ آنکھ کیلئے کتنی ہی مفید کیوں نہ ہو لیکن کان میں ڈالنے سے کچھ فائدہ نہ دے گی کیوں؟ اس لئے کہ خدا تعالیٰ نے اسے کان کیلئے نہیں بنایا بلکہ آنکھ کیلئے بنایا ہے اس لئے اس سے آنکھ کو ہی فائدہ ہو سکتا ہے۔تو ہر ایک کام کیلئے رستے ہیں جو کوئی ان پر چلتا ہے فائدہ اٹھاتا ہے اور جو چھوڑتا ہے وہ نا کام اور نامرادرہنے کے علاوہ نقصان بھی اٹھاتا ہے۔یہ جو آیت میں نے پڑھی ہے اس میں خدا تعالیٰ نے کامیاب ہونے کے کچھ راستے بتائے ہیں اور کچھ ایسے دروازے بھی بتائے ہیں جن سے بچنا چاہیئے۔کیونکہ جب کوئی انسان ان سے گزرتا ہے تو تباہ و برباد ہو جاتا ہے۔فرمایا۔اِنَّ اللهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَايْتَائِ ذِي الْقُرْبى وَيَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ اللہ تمہیں حکم دیتا ہے عدل اور احسان کرنے اور قریبیوں کو دینے کا یا ایسے رنگ میں دینے کا جو قریبیوں کا ہو اور روکتا ہے بڑی اور نا پسندیدہ باتوں سے اور سرکشی یعنی حد سے بڑھنے سے۔یہاں اللہ تعالیٰ تین باتوں کے کرنے کا حکم دیتا ہے اور تین باتوں سے روکتا ہے۔خدا تعالیٰ کا یہ نصیحت کرنا لغو ، بے فائدہ اور بیہودہ نہیں بلکہ اس نے لئے ہے کہ تم فائدہ اٹھاؤ۔اگر تم ان کرنے والی باتوں کو مان لو گے اور منع کردہ طریقوں سے بچو گے تو کامیاب ہو جاؤ گے اور تمہیں بہت سکھ پہنچے گا۔مومن کی یہی شان ہے کہ عدل ، احسان اور ایتائی ذی القربی کو مد نظر رکھے اور فحشاء ، منکر اور بغی سے بچے۔بعض لوگ غصہ، طلیش اور اشتعال دلانے کے وقت انہیں بھول جاتے ہیں۔کل ہی یہاں ایک معاملہ پیش ہوا کہ بحث میں کسی نے حضرت مسیح کی نسبت گندے الفاظ استعمال کئے ہیں۔اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ اس نے کئے ہیں یات