خطبات محمود (جلد 4) — Page 365
خطبات محمود جلد ۴ ۳۶۵ سال ۱۹۱۵ء ہوتے ہیں لیکن اگر ایک دفعہ انہیں غصہ آجائے تو پھر ان کے جوش کی کوئی حد نہیں رہتی۔وہ اس جوش میں تمام اخلاقی تعلیمیں اور اخلاقی جذبات کو بھول جاتے ہیں۔بعض انسان تو ایسے ہوتے ہیں کہ بہت سی سخت باتوں کو برداشت کر جاتے ہیں اور بڑی تکلیفیں اٹھا لیتے ہیں اور غصہ نہیں ہوتے لیکن جب ایسے انسان غصہ ہو جا ئیں تو ایسے سخت غصہ ہوتے ہیں کہ تمام نرمی کو بھول جاتے ہیں۔خدا تعالیٰ نے اس آیت میں فرمایا ہے کہ اگر دشمنوں سے تمہاری جنگ ہو تو اس بات کا خیال رکھنا کہ جوش اور غصہ میں حد سے نہ گزر جاؤ کیونکہ مسلمان کو ایسا کرنے کی اجازت نہیں ہے۔اس میں خدا تعالیٰ نے دو شرطیں بیان فرمائی ہیں۔ایک یہ کہ لڑ و مگر ان لوگوں سے لڑو جو تم پر حملہ آور ہوں اور وہ جو حملہ کرنے کی طاقت نہیں رکھتے ان پر تم حملہ نہ کرنا یعنی عورتوں، بچوں اور بوڑھوں سے نہ لڑنا ، جو تلوار اٹھا کر مقابلہ پر آئیں ان لوگوں سے جنگ کرنا۔دوسری شرط یہ کہ جن لوگوں سے تم لڑو ان سے ایسے طریق سے لڑو کہ ظالمانہ طریق نہ ہو۔آج کل جنگ ہو رہی ہے وہی تو میں جو بڑی مہذب بنتی تھیں آج ایسے طریق اختیار کر رہی ہیں جو کہ ظالمانہ ہیں کہیں گیسیں استعمال کی جاتی ہیں تو کہیں قیدیوں کو پکڑ کر لڑائی کے وقت اپنے آگے رکھا جاتا ہے۔خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ تم ایسے دشمنوں سے لڑو جو تم پر حملہ آور ہوتے ہیں لیکن لڑائی میں اعتداء نہ کرنا بلکہ وہ طریق اختیار کرنا جو ظالمانہ نہ ہو۔یہ بھی اعتداء میں داخل ہے کہ دشمن کا لباس پہن کر یا اس کا نشان دکھا کر حملہ آور ہونا یا صلح کے بہانے حملہ کر دینا۔یہ سب ایسے طریق ہیں جو باوجود دشمن کے ساتھ لڑائی کرنے کے بھی جائز نہیں ہیں۔لڑائی کے وقت بھی انسان کو انسانی حدود کے اندر رہنا چاہئیے۔اللہ اعتداء کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔فرمایا مسلمانوں کی قوم تو وہ قوم ہے جسے خدا کا محبوب بننا چاہئیے اگر تم لوگ ہی وقتی غصہ اور جوش میں آکر اعتداء کرو گے تو خدا کے محبوب نہیں بن سکو گے۔کیونکہ اگر تم لڑائی کے وقت ان حدود کو تو ڑ کر آگے نکل جاؤ گے تو یہ اس بات کا ثبوت ہوگا کہ تمہاری لڑائیاں نفسانی اور اپنی خواہشات کی لڑائیاں ہیں نہ کہ خدا کیلئے۔اس بات پر خدا تعالیٰ نے کیوں بار بار زور دیا۔میں نے بتایا ہے کہ جنگ کے وقت ہوش نہیں رہتے۔دیکھو وہی مہذب قومیں جن کا سب سے بڑا اعتراض قرآن شریف پر یہ تھا کہ یہ لڑائی اور جنگ کی تعلیم دیتا ہے اور قتل و غارت کا سبق پڑھاتا ہے آج ایسے ایسے شرمناک