خطبات محمود (جلد 4) — Page 366
خطبات محمود جلد ۴ سال ۱۹۱۵ء طریق پر جنگ کر رہی ہیں کہ ان کا نام لیتے ہوئے بھی شرم آتی ہے۔یہ لوگ کیوں ایسا کرتے ہیں اس لئے کہ غصہ اور غضب میں سب کچھ بھول گئے ہیں۔خدا تعالیٰ نے مسلمانوں کو بتایا ہے کہ ایسے موقع پر تمہیں بہت ہی ہوشیار رہنا چاہیئے تا ایسانہ ہو کہ کوئی نا جائز بات کر بیٹھو۔میں نے یہ آیت ایک خاص غرض کیلئے پڑھی تھی لیکن حلق خراب ہے۔اس لئے زیادہ بولا نہیں جاتا۔تاہم کچھ مختصر سا بیان کر دیتا ہوں۔۳۰ مئی کے اخبار پیغام صلح میں ایک مضمون چھپا ہے جو ایک ایسے شخص نے لکھا ہے جو کہتا ہے کہ میں قادیان سے ان باتوں کو اچھی طرح معلوم کر کے آیا ہوں۔وہ لکھتا ہے کہ دوسرا منافقانہ طریقہ یہ اختیار کر رکھا ہے کہ بیعت میں عہد لیا جاتا ہے کہ مرزا غلام احمد صاحب کو مہدی مسعود اور مسیح موعود مانو اور پیغمبر خدا کو خاتم النبيين مانو۔جب جماعت میں داخل ہو جاتا ہے تو رفتہ رفتہ معلوم کراتے ہیں کہ مسیح موعود خود خاتَمَ النَّبِيِّينَ ہیں۔پہلے امتی نبی تھے پھر حقیقی نبی ہو گئے۔لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رّسُولُ الله حضرت صاحب کا ہی کلمہ ہے۔قرآن شریف دنیا سے مفقود ہو گیا تھا۔موجودہ قرآن شریف مسیح موعود پر نازل ہوا ہے بھلا یہ منافقت نہیں تو پھر کیا ہے؟ پھر وہ کذاب لکھتا ہے کہ قادیان والے یہ اعتقادر کھتے ہیں کہ زیارت قادیان حج بیت اللہ ہے۔پھر ہماری طرف یہ بات منسوب کرتا ہے کہ قرآن شریف دنیا سے اٹھ کر ثریا پر چلا گیا تھا مسیح موعود نے دوبارہ ہم کولا کر دیا لہذا ہم پر آنحضرت صلانی ایم کا کوئی احسان نہیں ہے مسیح موعود خاتم الانبیاء ہیں۔مسیح موعود حقیقی نبی ہیں ، اسی طرح کے کئی ایک جھوٹ اس نے بولے ہیں اور خوب دل کھول کر جھوٹ کی غلاظت پر منہ مارا ہے۔مجھے حیرت ہے کہ ان لوگوں کی عقل اور سمجھ کہاں گئی ہے اور انہیں کیا ہو گیا مگر یہ دشمنی اور عداوت کا نتیجہ ہے کہ اس میں عقل ماری جاتی ہے اور جائز نا جائز میں تمیز کرنے کی اہلیت نہیں رہتی۔قرآن شریف نے کیا ہی لطیف بات بیان کی ہے کہ اے مسلمانو ! تم اپنے دشمنوں سے لڑو۔اگر تلوار کی جنگ ہو تو تلوار سے اور اگر تحریری اور تقریری جنگ ہو تو اس طرح اور یہ تمہارا حق ہے کہ جن لوگوں کو تم حق پر نہیں سمجھتے ان سے خوب بحث و مباحثہ کرو۔ایک مسلمان کا فرض ہے کہ ایک آریہ سے مذہبی بحث کرے اور جہاں تک اس کی طاقت ہو خوب زور سے کرے اور ایسا ہی کرنے کا آریہ کو بھی حق ہے لیکن کسی کو یہ حق نہیں کہ ایک دوسرے پر افتراء کرے، جھوٹ بولے اور دوسرے کی طرف وہ باتیں