خطبات محمود (جلد 4) — Page 358
خطبات محمود جلد ۴ ۳۵۸ سال ۱۹۱۵ء تم کو ایک باپ کے بیٹے بنادیا اور یہ اس حالت میں بنایا جب کہ تم ایک دوسرے کے دشمن تھے حالانکہ دشمن سے دوستی پیدا کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔جب ہم نے تمہیں دشمنوں سے ایک دوسرے کے بھائی بنا دیا تو تم ایسے کاموں سے پر ہیز کرو جن سے بھائی دشمن بن جائے۔پس ہماری جماعت کو چاہئیے کہ خدا نے اپنے فضل سے ہمیں بھائی بھائی بنا دیا ہے تو اب یہ تمہارا کام ہے کہ اس برادرانہ تعلق کو کمزور نہ کرو بلکہ مضبوط کرو اور یہ اسی صورت میں ہو سکتا ہے کہ آپس میں لڑائی جھگڑے نہ ہوں، ایک بھائی کے مفاد کو اپنا مفاد سمجھا جائے ، ایک بھائی کے دکھ کو اپنا دکھ خیال کیا جائے اور ایک بھائی کے سکھ کو اپنا آرام سمجھا جائے۔ہماری جماعت کو تو کچھ مشکل ہی نہیں کیونکہ یہ ایک عادل گورنمنٹ کے زیر سایہ ہے لیکن جہاں ایسا نہیں ہوتا وہاں وہ قوم بہت جلد تباہ ہو جاتی ہے جس میں اتحاد نہ ہو اور جس کے افراد بھائی بھائی کی طرح نہ ہوں۔حالات قومی کے بڑھنے کے ساتھ لڑائی اور فساد بھی بڑھتے ہیں ان کی وجہ سے قو میں بہت ہے سی برکتوں سے محروم ہو جاتی ہیں اس لئے ہماری جماعت کو خیال رکھنا چاہیئے کہ اگر جھگڑا اور فساد کے وقت ایک آدمی گرم ہے تو دوسرا نرم ہو جائے۔اگر ایسا کرو گے تو دیکھو گے کہ اسی گرم آدمی کے ساتھ ایسا اتحاد ہو جائے گا کہ وہ تمہاری جگہ خون بہانے کو تیار ہو گا۔اگر ایک لڑائی کیلئے ہاتھ اٹھائے تو دوسرا نہ اٹھائے۔اس وقت کے گزرجانے کے بعد دیکھنا کس قدر فائدہ ہوتا ہے۔تھوڑی سی دیر کیلئے منہ کو بند نہ کر کے جھگڑے کو طول دینے کی وجہ سے قومی مفاد کو پراگندہ کر دینا بہت نادانی ہے۔پس ہماری جماعت کو اس کا بہت خیال رکھنا چاہیئے۔ہماری برادری اور رشتہ دار احمدی جماعت ہونی چاہئیے بلکہ احمدی کیا اسلام ہونا چاہیئے کیونکہ اسلام وہی ہے جو ہمارے پاس ہے۔احمدی تو تمیز کیلئے نام رکھا گیا ہے۔اسلام تمام رشتہ داریوں کو مٹا کر ایک ایسی وسیع پیمانہ پر رشتہ داری مقرر کر دیتا ہے جس میں ہر قوم ہر ملک اور طبقہ کے لوگ ہوتے ہیں اور جو بھی اسلام قبول کرتا ہے وہ دوسروں کا بھائی بن جاتا ہے۔اللہ تعالے ہماری جماعت کو اس بات کی توفیق دے کہ تمام جماعت ایک رشتہ میں مربوط ہو اور وہ مشکلات جو کسی جماعت کی ترقی میں روک ہو جاتی ہیں آسان ہو کر ترقی کا راستہ صاف ہو جائے۔ا ال عمران : ۱۰۲ ۱۰۳ الفضل ۲۷ مئی ۱۹۱۵ ء )