خطبات محمود (جلد 4) — Page 337
خطبات محمود جلد ۴ ۳۳۷ سال ۱۹۱۵ء وفات پر مجھے خوب یاد ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام باہر صحن میں ٹہلتے ہوئے فرماتے تھے کہ اس کو ہم سے بہت محبت تھی۔اس نے کبھی ہماری مخالفت نہیں کی تھی ، بیماری میں ہماری خدمت کیا کرتا تھا مگر چونکہ وہ غیر احمدی تھا اس لئے حضرت مسیح موعود نے اس کا جنازہ نہیں پڑھا تھا۔میں نے پہلے ہی بتایا ہے کہ شفقت علی الناس تو نبی پر فرض ہو جاتی ہے۔رسول اللہ صلی ہی یہ نیم کے زمانہ میں ایک خادم مسجد فوت ہو گیا تو لوگوں نے یونہی اسے دفن کر دیا کہ رسول اللہ کو اس کے جنازہ کی کیا خبر کرنی ہے۔جب آپ کو یہ بر پہنچی تو بڑے ناراض ہوئے کہ کیوں مجھے خبر نہیں دی گئی ہے تو جنازہ پڑھنا چونکہ شفقت علی الناس سے تعلق رکھتا ہے۔اگر غیر احمدی کا جنازہ پڑھنا جائز ہوتا تو حضرت صاحب اپنے اس بیٹے کا ضرور جنازہ پڑھتے جس کی نسبت آپ نے فرمایا تھا کہ اس نے کبھی ہماری مخالفت نہیں کی تھی۔بہت سے لوگ اس بات کے گواہ ہیں کہ ابتداء میں جب حضرت صاحب نے دعویٰ کیا ہے اور آپ پر پے در پے بیماری کے دورے ہوئے ہیں تو فضل احمد آپ کی بڑی خدمت کرتا رہتا تھا۔پھر یہاں تک آپ کا فرمانبردار تھا کہ احمد بیگ والی پیشگوئی کے وقت جب حضرت مسیح موعود نے اسے کہا کہ تم اپنی بیوی کو طلاق دے دو کیونکہ وہ ان سے تعلق رکھتی ہے تو اس نے طلاق لکھ کر حضرت صاحب کے پاس بھیج دی کہ اگر وہ آپ کے حکم پر عمل نہ کرے تو آپ اسے یہ طلاق نامہ بھیج دیں۔تو حضرت صاحب سے اس کا تعلق بھی ایسا تعلق تھا کہ بڑے بڑے معاملات میں بھی اطاعت کرتا تھا یہ تو اس کا تعلق تھا۔مگر باوجود اس کے جب وہ فوت ہوتا ہے تو آپ اس کے جنازہ پر نہیں جاتے اور نہ ہی کسی احمدی کو جانے کیلئے فرماتے ہیں یہ تو آپ کا ایسے قریبی رشتہ دار سے اس شفقت کا سلوک تھا۔پھر سر سید احمد خان کو کون نہیں جانتا کہ وہ مکفر مولویوں کا سب سے بڑا دشمن تھا اور وہ تو عیسائیوں تک کو کافر کہنے کی جرات نہیں کرتا تھا۔حضرت مسیح موعود کو تو اس نے یہاں تک کہلا بھیجا تھا کہ آپ پیر بنیں اور میں مرید بنتا ہوں اور ہم حیدر آباد چلتے ہیں وہاں سے جس قدر رو پے ملیں گے ان میں سے تین حصے آپ کے اور ایک حصہ کالج کا ہوگا۔لیکن جب وہ فوت ہوا تو لاہور سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں خط آیا کہ ہماری جماعت کو چاہئیے کہ اس کا جنازہ پڑھے تا کہ یہ پتہ لگے کہ ہم صلح کل ہیں۔اس خط کے جواب میں مولوی عبد الکریم صاحبہ نے ایک خط لکھا تھا جو اب ملا ہے۔اس میں لکھا ہے کہ (حضرت مسیح موعود ) متولی کی خبر سن کر خاموش رہے۔