خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 300 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 300

خطبات محمود جلد ۴ (۶۲) تمہاری کامیابی کا گر تقوی ہے فرموده ۱۹۔مارچ ۱۹۱۵ء) سال ۱۹۱۵ء تشهد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد حضور نے مندرجہ ذیل آیت کی تلاوت فرمائی:۔يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ تَتَّقُوا اللهَ يَجْعَل لَّكُمْ فُرْقَانًا وَيُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَيّاتِكُمْ وَيَغْفِرُ لَكُمْ ، وَاللهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ اس کے بعد فرمایا:۔انسان کو اپنی زندگی کے راستہ میں بہت سی مشکلات ، بہت سی تکلیفیں اور بہت سی رکاوٹیں پیش آتی ہیں کیونکہ وہ تمام نتائج جو انسانوں کے کاموں کے نکلتے ہیں، زمانہ آئندہ سے تعلق رکھتے ہیں اور آئندہ کا علم کسی کو ہوتا نہیں اس لئے انسان کیلئے زندگی بسر کرنا ایسا ہی مشکل ہے جیسا کہ اندھیرے میں کوئی شخص کسی چیز کے پکڑنے کے لئے ہاتھ بڑھاتا ہے اور نہیں جانتا کہ وہ چیز کہاں ہے اور میرا ہاتھ کدھر جارہا ہے۔یہی حال انسان کے کاموں کا ہے، وہ سمجھتا ہے کہ میں روشنی میں کام کر رہا ہوں ، وہ جانتا ہے کہ میں سورج کی روشنی میں دیکھ بھال کر کام کر رہا ہوں اور وہ خیال کرتا ہے کہ اُجالے میں میرا کام ہو رہا ہے مگر دراصل وہ اندھیرے میں ، ظلمت میں اور تاریکی میں کام کر رہا ہوتا ہے۔پس چونکہ انسان کے تمام کاموں کی غرض نتائج مرتب کرنا ہوتی ہے اور نتائج آئندہ سے تعلق رکھتے ہیں اور آئندہ کا علم انسان کو ہوتا نہیں اس لئے اس کے تمام کام ایسے ہی ہوتے ہیں جیسے اندھیرے میں کوئی کام کر رہا ہو اور نہ جانتا ہو کہ مجھے کیا پیش آنے والا ہے۔جب یہ صورت ہو تو سوال ہوسکتا ہے کہ پھر انسان