خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 301 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 301

خطبات محمود جلد ۴ سال ۱۹۱۵ء - کیلئے اپنے کاموں میں کامیاب اور بامراد ہونے کی کیا تدبیر ہو سکتی ہے۔اس کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ لوگو! آؤ ہم تمہیں تدبیر بتاتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ یاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ تَتَّقُوا اللهَ الَّ مومنو! اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور اس کی خشیت کو دل میں جگہ دو اور خوف الہی اپنے دلوں میں پیدا کرو یہی تمہاری کامیابی کا گر ہے۔تقویٰ اللہ کہنے کو تو چند لفظ ہیں جو آسانی سے کہے جا سکتے ہیں لیکن عمل میں تقویٰ ایک نہایت ہی مشکل بات ہے۔ایک بزرگ نے تقویٰ کی یہ تعریف بیان کی ہے کہ ایک شخص نے کھلے کھلے کپڑ۔پہنے ہوئے ہوں جو ادھر اُدھر لٹکتے جا رہے ہیں اور اس نے ایک ایسے تنگ راستہ سے گزرنا ہو جس سے صرف ایک ہی شخص گزرسکتا ہے اور اس راستہ کے دونوں طرف خار دار جھاڑیاں ہوں جن کے کانٹے قدم قدم پر اس کے کپڑوں کو کھینچتے ہوں ایسی جگہ سے جس طرح یہ شخص اپنے تمام کپڑے سمیٹ کر صحیح و سلامت گزر جاتا ہے اور اپنے کپڑوں کو پھٹنے نہیں دیتا، اسی طرح وہ شخص جو اپنی زندگی میں دنیا کی تمام آلائشوں اور تمام گندوں اور تمام ناپاکیوں سے گزر جائے اور اپنے کپڑوں کو نا پاک نہ ہونے دے اس کا نام تقویٰ اللہ ہے۔پس کہنے کو تو یہ فقرہ آسان ہے مگر در حقیقت نہایت مشکل ہے اور اس راستہ پر چلنا ہر ایک انسان کا کام نہیں ہے کیونکہ اس کے حصول کیلئے انسان کو بہت سی کوششوں اور ریاضتوں کے کرنے کی ضرورت پڑتی ہے لیکن جو شخص ہمت کرتا ہے وہ ضرور کامیاب بھی ہو جاتا ہے۔اور صرف یہی ایک طریق ہے جس سے انسان دنیا میں اپنے کاموں اور ارادوں میں کامیابی حاصل کر سکتا ہے اسی لئے اللہ تعالیٰ بھی فرماتا ہے کہ اے مومنو! متقی بن جاؤ۔اس بزرگ نے تقویٰ کے معنے بہت درست کئے ہیں۔تقویٰ کے معنی بچاؤ کرنے کے ہیں۔انسان کا نفس جسم ہے پاکیزگی اور طہارت اس کا لباس ہے اور دنیاوی پلید یاں اور گندگیاں کانٹے ہیں جو ہر وقت پاکیزگی اور طہارت کے لباس کو پھاڑنے کے لئے تیار رہتے ہیں۔انسان کا یہ کام ہے کہ اپنی ساری زندگی میں اس راستہ سے صحیح و سلامت گزرنے کی کوشش کرے اور اس کو ایک تنگ راستہ سمجھے۔آنحضرت ملا ہی تم نے اس راستہ کو تلوار سے مشابہ قرار دیا ہے اور فرمایا ہے کہ تلوار کی دھار کی طرح تیز ہے اور اس کا نام آپ نے پل صراط رکھا ہے س گویا کہ یہ جہنم اور بہشت کے اوپر کا راستہ ہے جس پر انسان چل رہا ہے اور اتنا باریک اور تنگ ہے کہ انسان کو اس پر چلنے کے لئے ساری توجہ اور ساری کوشش سے کام لینا پڑتا ہے۔اگر کسی نے ان