خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 213 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 213

خطبات محمود جلد ۴ ۲۱۳ سال ۱۹۱۴ء پہلوا کٹھے ہوں انسان کو بہت ڈرنا چاہئیے کہ نہ معلوم غفلت ہو جائے جس کی وجہ سے بلا کا پلہ بھاری ہو جائے اور انعامات ہٹا لئے جاویں۔میں نہیں سمجھتا کہ وہ احمدی احمدی کس طرح ہو سکتا ہے جس کے دل میں اس نے وقت بھی یہ درد پیدا نہیں ہوتا کہ وہ اسلام کے پھیلنے اور ان لوگوں سے اسلام کے محفوظ رہنے کے لئے جو کہ اس کی نسبت برے خیالات رکھتے ہیں دعائیں کرے۔ہمارے پاس سوائے دعا کے اور کوئی چیز نہیں جس سے ہم اسلام کو بچاسکیں۔اور اگر ہم خدا تعالیٰ کو اپنا معین و مددگار نہیں بنائیں گے تو اور کون سا ذریعہ ہے جس سے اسلام پھیل سکتا ہے؟ پس اپنے اندر خدا تعالیٰ کی محبت پیدا کرو تا کاٹے نہ جاؤ اور اخلاص پیدا کرو تا بڑھائے جاؤ۔دنیا کی نظروں میں تم قلیل ہو لوگوں کی نظروں میں تم عزت ، حکومت اور مال کے لحاظ سے حقیر ہومگر باوجود اس کے تمہارے پاس وہ کچھ ہے جو اور کسی کے پاس نہیں ہے تمہارا وہ خدا ہے جس کے قبضہ میں لوگوں کے دل ہیں۔دلوں کی حکمرانی کے مقابلہ میں تلوار کی بادشاہت کچھ حقیقت نہیں رکھتی۔تم اگر نیکی اور تقویٰ اختیار کرو گے تو ساری دنیا تمہارے ساتھ شامل ہو جائے گی۔کیا خدا تعالیٰ کے اختیار میں نہیں ہے کہ جو قوم تم پر حکمران ہے اسی کو مسلمان کر دے یہ میرا خیال ہے اور مسیح ناصری کے وقت بھی ایسا ہی ہوا تھا کہ حاکم قوم نے اس کا مذہب اختیار کر لیا تھا۔اب بھی ایسا ہی معلوم ہوتا ہے کہ یورپ اسلام قبول کر لے گا اور وہی قوم جو تم پر حاکم ہے ایک وقت تمہاری شاگرد ہو کر تم سے دین سیکھے گی۔لیکن اس کیلئے شرط یہ ہے کہ تم اپنے اندر تقویٰ پیدا کرو، غفلت اور ستی کو چھوڑ دو اور لغو بحثوں سے احتراز کرو۔اور ایسی مجلسیں جن میں ہنسی اور مخول ہوتا ہو، ترک کر دو۔اور اپنے دلوں کو نرم کرو بلکہ پگھلالو۔کیونکہ پچھلی ہوئی چیز کو جس سانچے میں ڈھالا جائے اسی میں ڈھل جاتی ہے۔جن لوگوں کے دل سخت ہوتے ہیں انکو خدا متقیوں کے سانچے میں نہیں ڈھالتا۔پس تم خدا تعالیٰ کے حضور اپنے آپ کو ڈال دو۔ایک بچہ جس وقت ہاتھ پاؤں بھی نہیں ہلا سکتا اسوقت ماں باپ اس کی فکر کرتے ہیں اور اس کی ہر طرح سے نگہداشت کرتے ہیں۔تم بھی خدا تعالیٰ کے آگے اسی طرح اپنے آپ کو ڈال دو۔جس طرح دودھ پیتا بچہ ہوتا ہے تاکہ تمہارے بولنے اور کہنے کی بھی ضرورت نہ رہے۔اور خدا تعالیٰ خود ہی تمہارے لئے سامان پیدا کر دے۔میری یہ باتیں روز کی باتیں نہ سمجھو۔ان سے نصیحت حاصل کرو۔اگر تم نصیحت حاصل کر لو گے تو بہت جلدی کامیاب ہو سکتے ہو ، ورنہ یاد رکھو ذلیل ہو جاؤ گے۔آج تمہارے لئے