خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 214 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 214

خطبات محمود جلد ۴ ۲۱۴ سال ۱۹۱۴ء بہت عمدہ موقع ہے اگر تم نے اس کو رائیگاں جانے دیا تو پھر بہت مشکل سے تم کو ترقی نصیب ہوگی۔اور یہ بھی ممکن ہے کہ خدا کوئی اور ہی جماعت کو کامیابی عطا کرنے کیلئے چن لے جو اسلام کا بول بالا کرنے والی ثابت ہو۔تم غفلت اور سستی کو چھوڑ دو۔یہ بہت نازک موقع ہے اس لئے بڑے خوف کا مقام ہے۔اور ایسے وقت میں جس طرح اخلاص سے دعائیں نکل سکتی ہیں اور وقتوں میں نہیں نکلتیں۔پس تم دعاؤں میں لگ جاؤ۔تمہارے لئے رستہ بالکل صاف ہے۔دوسرے لوگ آج کل دلائل دے رہے ہیں کہ چونکہ ترکوں نے پہلے جنگ شروع کی ہے اس لئے ہم ان سے بے زار ہیں اور ان سے ہمدردی نہیں رکھتے۔مگر ہمیں ہرگز کوئی دلیل دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ہمیں مسیح موعود نے قبل از وقت بتلا دیا ہوا ہے کہ مجھے ترکوں کے امراء اور حکمرانوں کی حالت اچھی نظر نہیں آتی۔یہ لوگ گندے اور بدکار ہو گئے ہیں اور میں ان کی تباہی دیکھ رہا ہوں۔آج اس پیشگوئی کے پورا ہونے کے دن آگئے ہیں۔لوگ کہتے ہیں کہ ترکی کا بادشاہ خلیفتہ المسلمین ہے۔لیکن تمہارے لئے کتنی آسان بات ہے کہ تم نے ایک خلیفہ کو مانا ہوا ہے تو دوسرا کہاں سے آسکتا ہے اس لئے تمہیں کسی قسم کے دلائل دینے کی ضرورت نہیں کہ ہمیں کیوں لڑکی سے تعلق نہیں ہے۔تمہیں مسیح موعود کی وہ پیشگوئی نہیں بھول سکتی جو ۱۸۹۷ء میں آپ نے کشف کے ذریعہ بیان فرمائی تھی کہ میں ترکوں کی حالت اچھی نہیں دیکھتا وہ بدکاریوں میں مبتلاء ہیں۔پھر آپ نے خود ہی سوال اٹھایا کہ کوئی کہے کہ وہ تو محافظ حرمین شریفین ہیں وہ نہیں ہیں اور خلیفہ المسلمین زبانی کہہ دینا اور بات ہے لیکن ان سے دین کو بجائے فائدہ کے نقصان پہنچ رہا ہے۔تمہارے سامنے آج بھی یہ الفاظ وہی حقیقت رکھتے ہیں جو اس وقت رکھتے تھے اس لئے تمہارے لئے کوئی مشکل امر نہیں ہے۔ہاں یہ بھی یادر ہے کہ جہاں تمہارے لئے اس پیشگوئی کے پورا ہونے میں ایمان تازہ ہوئے ہیں وہاں تم میں یہ درد بھی پیدا ہونا چاہئیے کہ دعاؤں میں لگ جاؤ کہ خدا تعالیٰ اس سلسلہ کو ترقی عطا فرمائے۔پس تم اپنے دلوں کو اس قابل بنا لو کہ وہ خدا تعالیٰ کے افعال کے جاذب ہو جائیں اور تم پورے اور پکے مومن بن جاؤ۔یا د رکھو کہ خدا تعالیٰ کبھی پکے مومن کو ضائع نہیں کرتا۔کبھی ضائع نہیں کرتا کبھی ضائع نہیں کرتا۔خدا تعالیٰ تمہیں سمجھ دے تا کہ تم میری ان باتوں کی کنہ اور حقیقت تک پہنچو اور سرسری اور ظاہری نظر سے ان کو نہ دیکھو۔اس وقت تمہارے لئے