خطبات محمود (جلد 4) — Page 151
خطبات محمود جلد ۴ ۱۵۱ سال ۱۹۱۴ء قوموں نے اتوار کا دن مقرر کیا ہے۔یہودیوں میں ہفتے کا دن مانا جاتا ہے۔عیسائیوں میں بھی ابتداء میں ہفتہ ہی مانا جاتا تھا۔لیکن جب روما کے امراء اس میں داخل ہوئے تو چونکہ وہ سورج کی پرستش کرتے تھے اس لئے عیسائیوں نے بھی ان کی خاطر ہفتہ کو چھوڑ کر اتوار مقرر کر لیا۔اب تک بھی عیسائیوں میں ایسے فرقے موجود ہیں جو کہ ہفتہ کو ہی خاص دن کہتے ہیں۔مسلمانوں کیلئے جمعہ کا دن عبادت کیلئے خاص طور پر رکھا ہے۔تو تمام مذاہب والوں کا اس پر اتفاق ہے خواہ وہ ویدک دھرم ہوں یا یہودی ہوں یا عیسائی ہوں یا مسلمان ہوں تمام میں ایک دن ایسا رکھا گیا ہے جو کہ خدا تعالیٰ کی عبادت کیلئے مخصوص ہے۔تو اس قدر ہفتہ میں ایک دن عبادت کیلئے مقرر کرنے پر خصوصیت سے تمام مذاہب کا اجتماع ہونے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس میں بھی کوئی بڑی خاص اہمیت ہے ورنہ فروعات میں تو بڑے بڑے تغیرات ہوتے ہیں۔یہ ایک ایسا حکم ہے جو بظاہر لوگوں کی نظروں میں بڑا معلوم نہیں ہوتا لیکن گل شریعتوں کو اس پر اتفاق ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ بڑا اہم مسئلہ ہے۔جس طرح مختلف مذہبوں میں اس دن کی تخصیص میں اختلاف ہے۔اسی طرح عبادت اور اس دن کے فوائد حاصل کرنے میں بھی فرق ہے۔لیکن اسلام نے جو طریق رکھا ہے وہ سب سے افضل اور اعلیٰ ہے۔اس دن ایک نماز رکھی ہے تاکہ سب لوگ اس میں شامل ہو سکیں۔دیگر مذاہب نے اس خاص دن کے متعلق مختلف اصول مقرر کئے ہیں۔لیکن جس خوبی سے اسلام نے اس کی غرض اور غایت کو پورا کرنے کا طریقہ رکھا ہے اور کوئی مذہب اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔اسلام نے پہلے روزانہ پانچ وقت ایک جگہ جمع ہونے کے لئے حکم دیا۔پھر ہفتے میں ایک دن ایسا رکھا کہ تمام شہر کے اور ارد گرد کے لوگ ایک جگہ جمع ہو جائیں۔پھر ایک عید کا دن رکھا تا کہ قریب قریب کے گاؤں کے لوگ ہی نہ بلکہ دور کے بھی اس میں شامل ہوں۔پھر حج کا ایک وقت می ایک سال میں مقرر کیا تا کہ تمام دنیا کے مسلمان ایک جگہ جمع ہوں۔تو اس طرح ایک چھوٹے سے اجتماع سے چلانی کر بڑے بھاری اجتماع پر پہنچایا۔اب ہم دیکھتے ہیں کہ آیا دنیا وی حکومتوں میں بھی اس کا کوئی نمونہ پایا جاتا ہے یا کہ نہیں تو ہم یہ پاتے ہیں کہ اول قصبوں اور شہروں میں چند آدمیوں کو چن کر ایک میونسپل کمیٹی بنائی جاتی۔ہے۔پھر اس سے اخذ کر کے ڈسٹرکٹ بورڈ بنتا ہے۔پھر اسی طرح بڑھتے بڑھتے صوبہ کی کونسل تک معاملہ پہنچ جاتا ہے۔تو اسلام نے اسی اصل کو مد نظر رکھ کر پہلے تھوڑے لوگوں کو پانچ وقت جمع ہونے