خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 123 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 123

خطبات محمود جلد ۴ ۱۲۳ سال ۱۹۱۴ء اللہ تعالیٰ نے ان کی آزادی کیلئے سامان پیدا کر دیا۔تا کہ وہ اپنے پرانے خیالات بھول کر حکومت کرنے کے لئے تیار ہو جائیں لیکن انہوں نے ایسی راہ اختیار کی جس کی وجہ سے ان سے وہ نعمتیں چھن گئیں اور ان پر عذاب آیا۔اس آیت میں بیان کیا ہے کہ جو کچھ ان کو اللہ تعالیٰ نے دیا ان کو اس پر صبر نہ آیا اور انہوں نے موسیٰ کو کہہ دیا که لَن نَّصْبِرَ على طَعَامٍ واحدٍد ہم ایک کھانے پر صبر نہیں کر سکتے۔موسیٰ ہمیں کسی ایسی جگہ لے چلو جہاں سے ہمیں گیہوں ، ساگ اور لکڑیاں اور مسور اور پیاز لہسن وغیرہ مل سکیں۔تا کہ ہم انہیں کھائیں۔ان کے اس نے سوال سے یہ مراد تھی کہ ہمیں کسی شہر میں لے چلو جہاں ہمیں یہ چیزیں میسر ہو سکیں۔اللہ تعالیٰ کا منشاء چونکہ ان کو حکومت دینے کا تھا مگر وہ چونکہ گند سے بھرے ہوئے تھے اور تباہ ہونے والے تھے۔اس لئے انہوں نے کہا۔موسیٰ ہمیں کسی شہر میں لے چلو۔جہاں یہ چیزیں کھانے کو مل سکیں۔یہاں جنگل میں کیا رکھا ہے۔جنگل کی چیزوں پر ہم بسر نہیں کر سکتے۔یہاں تو یہی ہے کہ جنگلی جانوروں کو پکڑا اور کھا لیا۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا کیا تم اسے جو بہتر ہے اس سے بدلنا چاہتے ہو جو ادنی ہے۔یہ یاد رکھنا چاہیئے کہ وہ چیز میں دراصل ادنی تو نہیں تھیں۔ان اشیاء کو تو بی کریم ملا ہی ہم بھی کھایا کرتے تھے بلکہ اگر گوشت پکا ہوا ہوتا اور اس میں کرو ہوتا تو آپ کر وکوٹول ٹول کر نکالتے اور اسے کھا لیتے تھے ۳؎ تو ترکاری کا کھانا کوئی برانہیں ہے۔اگر برا ہوتا تو آپ خود بھی نہ کھاتے اور صحابہ کو بھی منع فرما دیتے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام بھی گوشت کم کھایا کرتے تھے۔اور سبزی کو پسند کرتے تھے۔گوشت سے ایک گونہ آپ کو نفرت ہی تھی۔اصل بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکومت دینی تھی چونکہ ان کو اللہ تعالیٰ کی پیشگوئی پر یقین نہ آیا۔اس لئے انہوں نے چاہا کہ حکومت تو معلوم نہیں کہ ملے یا نہ ملے اور خدا جانے کب ملے گی۔کچھ دن روٹی تو آرام سے کھاویں۔اس لئے کہا کہ ہمیں سبزیاں ترکاریاں چاہئیں اور وہ تو کھیتی کرتے تو اس سے ملتیں۔انہوں نے چونکہ اللہ تعالیٰ کی ایک پیشگوئی کا انکار کیا اس لئے اللہ تعالیٰ ان پر ناراض ہوا اور حکم دیا کہ کسی شہر میں چلے جاؤ وہاں تم کھیتی کرنا۔وہاں سے تمہیں جو مانگا ہے مل جاوے گا۔ان پر اللہ تعالیٰ کا غضب ہوا۔اور چونکہ انہوں نے خدا کی پیشگوئی کا انکار کیا اور اس پر ایمان نہ لائے بلکہ جلد بازی سے کام لیا اس لئے ذلیل ہو گئے۔اور بجائے اس کے کہ ان کو حکومت ملتی ، اب ایک معمولی کسان بننا انہوں