خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 90 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 90

خطبات محمود جلد ۴ ۹۰ (۲۲) سال ۱۹۱۴ء حق کو چھپانا اور حق اور باطل کا ملا نا سخت نقصان دہ ہے ( فرموده ۱۵ مئی ۱۹۱۴ء) تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد حضور نے مندرجہ ذیل آیات کی تلاوت کی :۔ 2 وَلَا تَلْبِسُو الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَتَكْتُمُوا الْحَقَّ وَأَنْتُمْ تَعْلَمُونَ وَأَقِيمُوا الصَّلوةَ وَاتُو الزَّكُوةَ وَارْكَعُوا مَعَ الرَّاكِعِينَ أَتَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَتَنْسَوْنَ أَنْفُسَكُمْ وَانْتُمْ تَتْلُونَ الْكِتَبَ أَفَلَا تَعْقِلُونَ وَاسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلوةِ وَإِنَّهَا لَكَبِيرَةٌ إِلَّا عَلَى الْخَشِعِينَ الَّذِينَ يَظُنُّونَ أَنَّهُمْ مُلْقُوْا رَبِّهِمْ وَأَنَّهُمْ إِلَيْهِ رَاجِعُونَ اس کے بعد فرمایا:۔ حق اور باطل کا ملانا سخت نقصان دہ ہوتا ہے۔ جن چیزوں میں آسانی سے امتیاز ہو سکتا ہے اور وہ علیحدہ ہو سکتی ہیں ان میں ہر ایک انسان فیصلہ کر سکتا ہے لیکن اگر ایک نا واقف انسان کے سامنے بری اور بھلی چیز ملا کر رکھ دی جائے تو اس کو ان میں امتیاز کرنا مشکلات میں ڈال دیتا ہے۔ مثلاً اگر کسی آدمی کے سامنے زہر اور تریاق ملا کر رکھ دیا جائے تو وہ زہر اور تریاق میں ہر گز فرق نہیں کر سکے گا۔ لیکن یوں اگر کہیں کہ یہ زہر کا پیالہ ہے اور وہ شہد کا۔ بلکہ ان دنوں میں سے جس کو چاہو قبول کر لوتو بہت لوگ بلکہ سارے ہی لوگ سوائے ان کم بختوں کے جو کہ خود کشی کرنا چاہتے ہیں شہد کے پیالہ ہی کو لیں گے اور اگر شہد میں زہر ملا کر پیالہ بھر دیا جائے اور پھر کہا جائے کہ یہ شہد کا پیالہ ہے تو سارے پی لیں گے۔ اسی طرح اگر حق اور باطل کو الگ الگ کر کے بتایا جائے تو لوگ جلد سمجھ لیتے ہیں