خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 48 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 48

خطبات محمود جلد ۴ ۴۸ سال ۱۹۱۴ء نفس کو یہ کہہ کر سلی دی کہ یہ تو خدا تعالیٰ کا وعدہ مسیح موعود کے ساتھ تھا اور یہ فیوض اور برکات انہی کے زمانہ میں رہیں اب وہ بھی اس دنیا میں نہیں ہیں نہ ہی وہ برکات ہیں۔تو میں نے پھر دعا کی۔میں جاگتا ہی تھا اور کمرے کی تمام چیزوں کو دیکھ رہا تھا تو میں نے خدا کو دیکھا وہ ایک نور تھا جو میرے کمرے کے نیچے سے نکل رہا تھا اور آسمان کی طرف کمرے کی چھت پھاڑ کر جا رہا تھا۔اس کا نہ شروع تھا نہ ہی اس کا انتہاء تھا۔لیکن اس نور میں سے ایک ہاتھ نکلا جس میں ایک سفید اور بالکل سفید چینی کا پیالہ تھا اور اس پیالہ میں دودھ تھا۔اس نے وہ پیالہ مجھے پکڑا دیا۔میں نے وہ دودھ پی لیا۔میں جب وہ دودھ پی چکا تو میں نے دیکھا کہ نہ تو مجھے کوئی درد تھا اور نہ بخار بلکہ میں اچھا بھلا تھا اور مجھے کوئی ذرہ بھر بھی تکلیف نہ تھی۔خدا تعالی عجیب عجیب نازک وقتوں میں انسان کی دستگیری کرتا اور مدد دیتا ہے۔اگر مشکلات کے وقت مدد ینے والی اور مصائب سے بچانے والی کوئی ہستی ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کی ہستی ہے۔وہ بڑی بڑی مشکلات کو حل کر سکتا ہے۔تم اگر اس کو چھوڑ کر کسی دوسرے کی طرف جاؤ گے تو تم یا درکھو کہ تم مشرک ہو۔پس تم اسی کی طرف جھک جاؤ اور اسی کی طرف متوجہ ہو جاؤ تا کہ وہ تمہاری اس مشکل میں تمہاری مدد کرے۔دعا کی توفیق بھی اسی کی طرف سے ملتی ہے۔وہ ہمیں قبول ہونے والی دعا کرنے کی توفیق عنایت فرمادے اور وہ ہمیں رشد اور ہدایت کا رستہ دکھلائے اور ضلالت سے محفوظ رکھے۔الفضل ۱۸۔مارچ ۱۹۱۴ ء ) البقره: ۱۸۷ البقرة : ۲۵۶ سے تذکرہ صفحہ ۴۲۵۔ایڈیشن چہارم