خطبات محمود (جلد 4) — Page 539
خطبات محمود جلد ۴ ۵۳۹ سال ۱۹۱۵ء یہی کافی ہے ان کی روح مردہ ہو جاتی ہے اور وہ آخر میں ضائع ہو جاتے ہیں۔آپ لوگوں نے یہ کبھی نہیں دیکھا ہوگا کہ ایک شخص درخت لگائے اور اس کو ایک دفعہ پانی دے کر چھوڑ دے۔بلکہ جب بھی ضرورت دیکھتا ہے پانی دیتا ہے اگر پانی دینا چھوڑ دے تو درخت سوکھ جاتا ہے اور کارآمد نہیں رہتا۔اسی طرح وہ شخص جو اپنے دل میں ایمان کا درخت لگاتا ہے، اس کیلئے ضروری ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے جو حکمت اور معرفت کا پانی آتا ہے اسے دیتا ر ہے اور اگر ایسا نہیں کرے گا تو ایک دن اس کے ایمان کا درخت سوکھ جائے گا۔پس یہ بات بہت ضروری ہے کہ ہر ایک وہ چیز جو خدا تعالیٰ کی قدرت اور حکمت کا نشان ہو اس پر انسان کو غور و فکر کرنا چاہئیے کہ مجھے اس سے کیا روحانی غذاملتی ہے۔دنیا میں کئی قسم کے لوگ ہوتے ہیں ایک وہ جو اندھے ہوتے ہیں اور ایک وہ جو سو جاکھے۔اندھے وہ ہوتے ہیں جو اپنے رستہ کی اور اردگرد چیزوں کو دیکھ نہیں سکتے اور سوجا کھے وہ جو دیکھ سکتے ہیں۔اسی طرح روحانیت میں بھی اندھے اور سو جا کھے ہوتے ہیں یعنی اندھے وہ جو روحانیت کے سامان اور نشانات ہوتے ہے ہوئے نہیں دیکھتے اور ان سے فائدہ نہیں اٹھاتے۔دنیا میں بھی انہیں لوگوں کو اندھا کہا جاتا ہے جو چیزوں کے موجود ہونے کے باوجود نہ دیکھیں۔اور اگر کوئی چیز ہی نہ ہو تو اس کے نہ دیکھنے والے کو اندھا نہیں کہا جاتا۔اسی طرح جب خدا تعالیٰ کی طرف سے انسان کی روحانی ترقی کے سامان آتے ہیں تو جو لوگ انہیں نہیں دیکھتے اور ان سے فائدہ نہیں اٹھاتے وہ اندھے ہوتے ہیں یہی وجہ ہے کہ انبیاء کے منکروں کو اندھوں سے مشابہ قرار دیا گیا ہے اور ان پر کفر کا فتویٰ لگایا جاتا ہے۔جب تک دنیا میں نبی کے ذریعہ روحانیت کے سامان مہیا نہیں کئے جاتے اس وقت تک باوجود ہزاروں بدیوں اور برائیوں کے کسی پر کفر کا فتویٰ نہیں لگتا۔لیکن جب نبی آ جاتا ہے تو اس کے نہ ماننے والے خواہ اپنے خیال میں کتنے ہی اچھے کام کرتے ہوں ، کافر بن جاتے ہیں۔چنانچہ آنحضرت سلی کا یہ تم جب آئے تو مسیحی جو کچھ پہلے کرتے تھے وہی آپ کے آنے کے وقت بھی کرتے رہے۔لیکن جب تک آپ نہیں آئے تھے یہی مسیحی دنیا کے مصلح تھے لیکن آپ کے آنے کے بعد ان پر کفر کا فتویٰ لگ گیا کیوں؟ اسی لئے کہ پہلے ان کیلئے روشنی نہ تھی۔خدا تعالیٰ کے ساتھ تعلق پیدا کرنے اور اس کی معرفت حاصل کرنے کے ذرائع ان کی آنکھوں سے مستور تھے اس لئے اگر وہ خدا کی معرفت حاصل نہیں کر سکے تو کافر نہ ہوئے کیونکہ خدا تعالیٰ کی معرفت کے نشان