خطبات محمود (جلد 4) — Page 39
خطبات محمود جلد ۴ ۳۹ سال ۱۹۱۴ء نبی کریم صلی الها الملم جب مدینہ شریف میں تشریف فرما ہوئے تو مدینہ کی حالت بہت خطرناک تھی ۔ مدینہ والوں نے جب باہر کے دشمنوں کو دیکھا اور اپنی حالت کو دیکھا تو انہوں نے اتفاق کی غرض سے عبد اللہ بن ابی کو اپنا سردار بنانا چاہا تھا۔ وہ بالکل تیار ہی تھے کہ اسے سردار بنا لیں تو نبی کریم لیا اسلم مدینہ پہنچ گئے ۔ ان کو ایک بنا بنا یا با دشاہ مل گیا جس نے ان کو خانہ جنگیوں اور آئے دن کے فسادوں کی بجائے محبت و پیار کی ایک اعلیٰ چٹان پر کھڑا کر دیا اور ان کو اس کے رسے میں جکڑ دیا تو وہ خدائی بادشاہ پر کی بجائے اور کسی کو کیوں بادشاہ بناتے ۔ اس لئے پھر اس سے عبداللہ بن اُبی کو بڑا صدمہ ہوا ۔ ۲ ۔اس۔ اس نے بھی لوگوں کو ادھر دیکھ کر آپ کی اطاعت کر لی اور چونکہ وہ تاب مقابلہ نہیں رکھتا تھا اس لئے اس کے ہم عقیدہ لوگ بھی بظاہر اس کے ساتھ ہی ہو گئے مگر بہ باطن انہوں نے حکومت کے حصول کیلئے ارد گرد کے یہود کو ابھار نا شروع کیا۔ اور کفار قریش کو بھی جوش دلانا شروع کیا اور کہا کہ باہر سے تم حملہ آور ہونا اور اندر سے ہم ان کی جڑ اکھاڑیں گے اور اس طرح مل ملا کر انہوں نے مسلمانوں کو تباہ کر دینے کا منصوبہ کیا ۔ باہر سے یہود اور کفار نے حملے کرنے شروع کر دیئے ، مسلمان کل ہزار ڈیڑھ ہزار تھے ، انہوں نے سوچا تھا کہ ان کو اس طرح تباہ کر سکیں گے۔ لیکن جو راہ انہوں نے اپنے نفع کیلئے سوچی تھی وہی ان کیلئے وبال جان بن گئی ۔ وہ چونکہ اپنے آپ کو مسلمان بتلاتے تھے تو اب گروہ کفار کے ساتھ مل کر مسلمانوں کے برخلاف جنگ کرتے ۔ کفار جب ہار جاتے تو آخر ان کا نفاق کھل جاتا۔ اور ان سے سوال کیا جاتا کہ تم جو اپنے آپ کو مسلمان بتلاتے تھے تو تم ان کے ساتھ کیوں مل گئے ۔ جنگ اُحد میں عبد اللہ بن اُبی تین سو آدمیوں کو لے کر اس خیال سے واپس ہو گیا کہ مسلمانوں نے تو بہر حال شکست کھانی ہی ہے اور یہ مارے جائیں گے اس لئے ان کا ساتھ مت دو سے۔ اس موقع پر ان کا نفاق کھل گیا۔ مسلمان باوجود زخمی ہونے کے پھر بھی مقابلہ پر آگئے اور کفار کو شکست دی۔ ان کو بجائے فائدہ کے نقصان اٹھانا پڑا۔ اور منافقوں نے جو مسلمانوں کو تباہ کرنے کیلئے آگ جلائی تھی انہوں نے اس کو خوب بھڑ کا یا ۔ اور وہ روشن ہو گئی تو اللہ تعالیٰ نے اس آگ کو بجھا دیا اور ان کے نور اسلام کو ( جو تھوڑا بہت ان میں تھا ) لے گیا۔ ان منافقوں کی منافقت ظاہر ہو گئی اور جس عارضی روشنی سے وہ اپنا بچاؤ کرتے تھے وہ بھی جاتی رہی اور وہ اندھیروں میں آگئے ۔ اب انہوں نے اپنے اوپر سے وہ الزام ہٹانے کیلئے اور اس بات کو چھپانے