خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 40 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 40

خطبات محمود جلد ۴ سال ۱۹۱۴ء کیلئے طرح طرح کے حیلے اور بہانے شروع کر دیئے۔انہوں نے اپنی منافقت کو چھپانا چاہا اور سوچنے لگے کہ کیا بات بناویں اور ان کو کیا جواب دیں کہ جس سے ان کی سرخروئی ہو اور یہ داغ ان پر سے مٹ جاوے۔مگر جس کا نہ کان ہو نہ زبان ہو نہ آنکھ ہو کچھ بھی نہ ہو اس کا کیا حال ہوگا۔یہی کہ وہ راستہ سے بھٹک جاوے گا اور تباہی میں گرے گا۔سنے والا تو کسی پکارنے والے کی آواز سن کر ہی راستہ پر چل پڑا۔اور دیکھنے والا اپنی آنکھوں سے کام لے کر چلے گا۔لیکن جس کا تینوں میں سے کچھ بھی نہ ہوا سے تو نہ پکارنے والے کی پکار فائدہ دے سکتی ہے نہ راستہ دکھلانے والے کا راستہ دکھلا نا کام آسکتا ہے وہ تو بہر حال تباہی سے نہیں بچ سکتا اور اس سے لوٹ نہیں سکتا۔وہ تو اس میں ہی گرے گا اس لئے فرما یا صُمْ بُكْمٌ عُمى فَهُمْ لَا يَرْجِعُونَ۔دوسرے وہ جو کہ دل سے مانتے ہیں لیکن اپنا ایمان ظاہر نہیں کر سکتے یا مال کے ڈر سے وہ کچھ نہیں کرتے۔ادھر چندوں کا حکم دیا گیا تو یہ لوگوں سے ڈر گئے اور نہ دیا۔ادھر دشمن سے مقابلہ کرنے کا حکم دیا گیا لیکن یہ گھبرا کر بھاگ گئے یا مقابلہ ہی نہ کیا یا گئے ہی نہیں۔ایسوں کی مثال دی او گصیب من السَّمَاءِ فِيهِ ظُلُمتْ وَرَعْدٌ وَبَرْقٌ بادل جب آتا ہے تو سورج کی روشنی کو ڈھانپ لیتا ہے۔تو عقلمند لوگ اس سے ناخوش نہیں ہوتے بلکہ خوش ہوتے ہیں کیونکہ اس سے پھر بارش ہوگی اور زمین سرسبز و شاداب ہوگی۔جو عقلمند لوگ ہوتے ہیں وہ تو اپنی کھیتیوں کو پانی دینے کیلئے تیاری کر لیتے ہیں لیکن بیوقوف اپنی کھیتی کو کاٹ کر اس سے پانی نکال دینے کا سامان کرتے ہیں۔اسی طرح انبیاء کا معاملہ ہے جب نبی آتا ہے تو دنیا میں جو فیضان جاری ہوتا ہے وہ رک جاتا ہے جیسا کہ بادل کے سبب سورج کی روشنی رک جاتی ہے لیکن جب وہ بادل برستا ہے تو پھر وہ روشنی بہت نفع مند ہوتی ہے۔اور اگر بر خلاف اس کے بادل نہ ہوں تو وہی سورج ان کیلئے ہلاکت کا موجب بن جاوے اور لوگ تباہ ہو جائیں۔اسی طرح انبیاء کے آنے پر جو فیضان رک جاتے ہیں وہ پھر اس رحمت الہی کے ساتھ دگنے ہو ہو کر لوگوں کو ملتے ہیں۔انبیاء سے پہلے لوگ عیاش ہو جاتے ہیں۔ان کو ان کی غلطیوں اور خطا کاریوں پر متنبہ کیا جاتا ہے۔وہ نہیں رکتے تو طرح طرح کی بلائیں نازل ہوتی ہیں جن سے بظاہر تو لوگ تکلیف محسوس کرتے ہیں اور ان کو دکھ معلوم ہوتا ہے مگر سمجھنے والے سمجھ جاتے ہیں اور ایمان لا کر ان دکھوں سے رہائی پاتے ہیں اور وہ مصیبتیں ان کیلئے رحمت بن جاتی ہیں۔پس انبیاء کی آمد کا معاملہ بادل کی