خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 427 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 427

خطبات محمود جلد - ۴ ۴۲۷ سال ۱۹۱۵ قرآن کریم نے بھی کھول کر بتا دیا ہے۔ قرآن کریم نے تو اس لئے بتایا ہے کہ آنحضرت صلی لا الہ تم ان کے مثیل تھے۔ ان دونوں انبیاء کی امتوں کا حال دیکھیں تو بہت بڑا فرق نظر آتا ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی امت تو وہ ہے جو ایک اتنے بڑے نبی کے عظیم الشان نشان دیکھ چکی ہے۔ انہوں نے فرعون کو غرق ہوتے دیکھا ، جنگلوں اور بیابانوں میں خدا تعالیٰ کی نصرت اور مرد کو شامل حال پایا لیکن پھر بھی یہ حال ہے کہ ایک جگہ لڑائی کیلئے حکم ہوا تو قَالُوا لِمُوسَى إِنَّا لَنْ تَدْخُلَهَا أَبَدًا مَّا دَامُوا فِيهَا فَاذْهَبْ أَنْتَ وَرَبُّكَ فَقَاتِلَا إِنَّا هُهُنَا قَاعِدُونَ ٢ کہتے ہیں اے موسیٰ ! آپ اور آپ کا رب جا کر ان سے لڑیں ہم تو یہاں بیٹھے ہیں جب وہ وہاں سے چلے جائیں گے تب ہم داخل ہوں گے۔ یہ اُس قوم کا حال ہے جس نے بڑے بڑے معجزے دیکھے۔ بہت مدت نبی کی صحبت میں رہی لیکن آنحضرت صل الا السلام کی جماعت کا حال سنئیے ۔ جب آپ مدینہ تشریف لائے تو وہاں کے لوگوں سے آپ نے یہ معاہدہ کیا کہ اگر مدینہ سے باہر جنگ ہو تو تم اس میں لڑنے کے پابند نہیں لیکن اگر مدینہ کے اندر ہو تو اس کے روکنے میں مدد دینا تمہارا فرض ہوگا ۔ اس معاہدہ میں عیسائی اور یہودی بھی شامل تھے لیکن جب ایک دفعہ جنگ کا موقع آیا اور یہود نے بد عہدی کر کے اندر فساد مچادیا تو مسلمانوں نے کہا کہ ہم تو آپ کے دائیں بائیں آگے پیچھے لڑیں گے اور دشمن پہلے ہم کو قتل کرے گا پھر کہیں آپ تک پہنچنے پائے گا ۔ یہ اس قوم کا حال ہے جو بہت قلیل عرصہ یعنی صرف ڈیڑھ دو سال تک آپ کی صحبت میں رہی مگر باوجود اس کے اس کا ایمان اتنا ترقی کر گیا۔ لیکن حضرت موسیٰ علیہ السلام کی جماعت جو قریبا ہیں سال ان کی صحبت میں رہی اور جس نے بڑے بڑے نشانات دیکھے انہیں جب لڑنے کیلئے کہا گیا اور کی دشمن کی تعداد بھی کچھ زیادہ نہ تھی تو اس نے جواب دیا کہ آپ اور آپ کا خدا جا کر لڑیئے ۔ آنحضرت ﷺ کی صحبت میں ایک قلیل عرصہ رہنے والی جماعت کا یہ حال ہے کہ اس کا مقابلہ ایک خطر ناک گروہ سے ہو جاتا ہے جو یوں تو ہزاروں اور لاکھوں کی تعداد میں تھا لیکن مقابلہ کیلئے جو آئے وہ بھی بہت زیادہ تھے باوجود اس کے وہ آنحضرت صلی لا السلام کو کہتے ہیں کہ ہم آپ کا ساتھ نہ چھوڑیں گے۔ آپ تک اس وقت تک کوئی دشمن نہیں پہنچ سکتا جب تک ہم سب کو مار نہ لے۔ پھر مردوں ہی میں یہ جوش نہیں بلکہ لڑکوں اور بچوں میں بھی یہی جوش ہے۔ چودہ پندرہ سال کے لڑکوں میں وہ جرات اور دلیری پائی جاتی تھی جو اس زمانہ میں بڑے بڑے جوانوں میں نہیں ۔ اب اگر اس عمر کے صلى الله عروسه