خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 426 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 426

خطبات محمود جلد ۴ ۴۲۶ سال ۱۹۱۵ ہے اتنا ہی ذلیل ہوتا ہے اور جتنا دنیا سے علیحدہ ہوتا اور اپنے نفس کو دنیاوی خواہشات سے مارتا ہے اتنا ہی خدا اسے اونچا کرتا ہے۔یہی بہت بڑا فرق ہے جس کے نہ سمجھنے کی وجہ سے لوگوں نے ٹھوکر کھائی ہے۔دین کی وجہ سے جو عزت ملی وہ آنحضرت سلی کی تم سے زیادہ کسی کو نہیں ملی اور نہ مل سکتی ہے۔اللہ تعالی قرآن شریف میں آپ کی نسبت فرماتا ہے انا اعطینكَ الْكَوثَرَ فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرُ إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الابتر۔ہم نے تجھے کوثر عنایت فرمائی ہے یعنی ہر ایک چیز کی کثرت اور ہر ایک چیز میں وسعت دی ہے۔چنانچہ کوئی چیز بھی لے لو نہریں ہی جاری نظر آتی ہیں۔جنت میں جو حوض کوثر ہوگا وہ تو علیحدہ رہا یہاں بھی نہریں جاری ہیں اور ہر چیز کی کثرت ہے۔آپ کو خدا تعالیٰ نے وہ عزت دی جو دنیا میں کسی کو حاصل نہ ہوئی۔پہلی بڑی عزت تو آپ کو وہ دی جس میں دیگر انبیاء بھی آپ کے شریک نہیں اور وہ یہ کہ سب انبیاء ایک ایک قوم کی طرف بھیجے جاتے تھے مگر آنحضرت سائیں پیہم کو ساری دنیا کی طرف مبعوث کیا گیا ور آپ کو ساری دنیا کا بادشاہ کر دیا گیا۔کرشن اور رامچندر کی تعلیم ہندوستان کیلئے تھی۔زرتشت کی تعلیم ایران کیلئے تھی۔حضرت موسیٰ سے لے کر حضرت مسیح تک کل انبیاء کی تعلیم بنی اسرائیل کیلئے تھی لیکن آنحضرت سی پیتم پر خدا تعالیٰ نے یہ فضل کیا کہ ساری دنیا کا بادشاہ بنادیا۔اور کوئی علاقہ آپ کی حکومت سے باہر نہ رکھا خواہ ایشیاء ہو یا افریقہ، خواہ یورپ ہو یا امریکہ، خواہ جزائر کے رہنے والے ہوں یا پہاڑوں کے ، خواہ میدانوں میں رہنے والے ہوں یا جنگلوں میں ، خواہ گاؤں بستیوں میں رہنے والے ہوں یا شہروں میں تمام کے اوپر آپ کی اطاعت فرض کر کے یہ قرار دے دیا کہ آپ کی اطاعت کا جوا اٹھائے بغیر کسی کیلئے نجات کا دروازہ نہیں کھلا۔تو اتنی بڑی حکومت آپ کو عطا ہوئی۔پھر آپ کے کلام کو وہ اثر بخشا کہ آپ کی باتوں کو سن کر جنہوں نے ہدایت پائی تھی ان کی شان کو اللہ تعالیٰ نے ایسا بڑھایا کہ کسی نبی کی صحبت یافتہ جماعت ان سے مقابلہ نہیں کر سکتی۔قرآن شریف میں جن نبیوں کا ذکر ہے ان میں سے حضرت موسیٰ علیہ السلام بڑے ہیں۔ان سے پہلے نبیوں کی امتوں کا حال تو ہمیں معلوم نہیں اور نہ ہی کوئی مفصل تاریخ ہے جس سے یہ پتہ لگ سکے کہ حضرت نوح “ حضرت ابراہیم وغیرہ انبیاء کی امتیں کیسی تھیں۔مگر موسیٰ علیہ السلام کی امت کا حال معلوم ہوتا ہے جو تاریخوں میں بھی پایا جاتا ہے اور