خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 417 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 417

خطبات محمود جلد ۴ ۴۱۷ سال ۱۹۱۵ ہو سکتا اس لئے دعا کے متعلق بہت احتیاط کی ضرورت ہے ورنہ ٹھوکر لگ جاتی ہے۔ بعض یہ سمجھتے ہیں کہ فلاں کی دعا ادھر منہ سے نکلی ادھر قبول ہو جاتی ہے لیکن جو کوئی کسی انسان کی نسبت ایسا خیال کرتا ہے اس کا خیال جھوٹا ہے اور وہ ایک شرک میں گرفتار ہے خواہ اس کا یہ خیال تمام انبیاء کے سردار آنحضرت صلی اسلام کی نسبت ہی کیوں نہ ہو۔ اس میں شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ دُعا قبول کرتا ہے مگر یہ بھی درست ہے کہ خدا کسی کا غلام نہیں اور نہ ہی مملوک ہے کہ ادھر بندے نے دُعا کی اور اُدھر اس نے قبول کر لی۔ وہ خدا ہے کبھی دعا قبول کرتا ہے اور کبھی اپنی بات کو قبول کرواتا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا میں کبھی کوئی یہ توقع نہیں رکھتا کہ گورنمنٹ اُس کی تمام باتیں قبول کرلے گی اور یہ توقع کسی چھوٹے سے چھوٹے حاکم کے متعلق بھی نہیں کی جا سکتی پھر خدا تعالیٰ کی نسبت ایسا خیال رکھنا کیسی نادانی ہے۔ خدا تعالیٰ اپنے بندوں کی دعائیں قبول کرتا ہے اور کی جن پر اس کا فضل ہوتا ہے ان کی بہت سی قبول کرتا ہے مگر پھر بھی بعض ایسی ہوتی ہیں جنہیں رد کر دیتا ہے۔ کیوں؟ اس لئے کہ وہ مالک ہے۔ ہاں دنیا وی حکومتوں کے رد کرنے اور خدا تعالیٰ کے رد کرنے میں فرق ہے اور وہ یہ کہ دنیا وی حکومتیں جو رد کرتی ہیں ان کا رد کرنا بہت حد تک ان کے اپنے مصالح پر مبنی ہوتا ہے اور بعض دفعہ وہ غلطی بھی کرتی ہیں ۔ مثلاً کسی کی درخواست کو رد کر دیتی ہیں حالانکہ اس کا قبول کرنا مفید اور ضروری ہوتا ہے۔ مگر خدا تعالیٰ جس درخواست کو رد کرتا ہے وہ بندے کیلئے ہی مفید ہوتی ہے اور اگر اسے قبول کر لیتا ہے تو اس کیلئے ہلاکت کا باعث ہو جاتی ۔ اس دعا کی قبولیت ہی یہی تھی کہ رد کر دی جاتی۔ یہ اسی طرح کی بات ہے کہ ایک انسان کے ہاتھ میں آگ کا انگارہ ہو اور ایسا شخص جس سے اُسے دشمنی ہو اس انگارے کو کچھ اور سمجھ کر کہے کہ میرے ہاتھ پر رکھ دو تو وہ رکھ دے گا لیکن اگر اس کا اپنا بچہ کہے کہ میرے ہاتھ پر رکھ دو تو وہ ہر گز نہ رکھے گا۔ کوئی نادان تو کہہ دے گا کہ دیکھو فلاں آدمی کی بات تو مانتا ہے اور اپنے بچہ کی نہیں مانتا۔ لیکن وہ نادان نہیں سمجھتا کہ جس کی بات کو اس نے رد کر دیا ہے دراصل اسی کو قبول کیا ہے اور جس کی بات کو قبول کیا ہے اصل میں اسی کو رڈ کیا ہے۔ مولانا رومی نے مثنوی میں ایک بہت عمدہ قصہ لکھا ہے۔ لکھتے ہیں ایک سپیرا اتھ تھا اس کے پاس پاس نرالی قسم کا کا سانپ تھا تھا ایک دن وہ گم گم ہو گیا تو سپیرا بڑا رویا اور دعائیں کیں کہ الہی ! مجھے میرا سانپ مل جائے مجھے اس کے ذریعہ بڑی آمدنی