خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 409 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 409

خطبات محمود جلد - ۴ ۴۰۹ سال ۱۹۱۵ الہام سے کہیں تو مانا ضروری ہے اور اگر خود کہیں تو ماننے کی ضرورت نہیں۔ بعض نادان اس کی تائید میں بریرہ والی حدیث پیش کرتے ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ آنحضرت صلی الیہم نے کبھی کوئی حکم حضرت ابوبکر ، حضرت عمر ، حضرت عثمان ، حضرت علی ، وغیرہ جلیل القدر صحابہ کو بھی دیا تھا یا نہیں؟ اگر دیا تھا تو ان علی اقدر صحابہ کبھی تھا دی توان کی بھی کوئی ایسی مثال پیش کرو کہ جب انہیں کوئی حکم دیا گیا ہو تو آگے سے انہوں نے کہہ دیا ہو کہ پہلے آپ یہ بتائیں کہ آپ الہام کے ذریعہ ہمیں یہ حکم دیتے ہیں یا خود فرماتے ہیں۔ طلحہ، زبیر ، سعد ، سعید وغیرہ یہ لوگ جو بڑے بڑے درجے رکھنے والے تھے اور جن کے متعلق خدا تعالیٰ کے فعل نے بھی شہادت دے دی کبھی اس طرح کہا ہو کبھی کوئی ان کی نسبت ایسا نہیں ثابت کر سکتا ۔ اس بات کی تائید میں اگر پیش کیا جاتا ہے تو ایک لونڈی عورت کو جس کی نسبت یہ بھی دیکھنا ہے کہ آنحضرت صلی لا الہ سلم کی صحبت سے کتنی مستفید ہوئی۔ اس کا ایمان کیسا تھا ، وہ کیسے اخلاص والی تھی۔ یہ تو ایک عورت کی شہادت ہے لیکن اگر رسول اللہ کے کسی صریح حکم کے خلاف سارے صحابہ بھی اس طرح کرتے تو میں سارے صحابہ کو غلطی پر یقین کرتا۔ پس جب سارے صحابہ کے اس قسم کے فعل کو ہم چھوڑنے کیلئے تیار ہیں تو بریرہ کا فعل کیا سند ہو سکتا ہے۔ پھر کہتے ہیں کہ حضرت عمر کو پوچھا گیا کہ یہ گرتا آپ نے کہاں سے پہنا ہے لیکن میں کہتا ہوں کہ یہ پوچھنے والا عثمان علی طلحہ ، زبیر ، وغیرہ میں سے کوئی نہ تھا اور نہ انہوں نے اس طرح کہا ۔ کہنے والا ایک بدوی تھائی جو معمولی صحابی بھی ثابت نہیں ہو سکتا۔ اگر اس کا یہ کہنا کوئی نیکی اور عمدگی کا کام ہوتا تو ضرور صحابہ کرام سے بھی کوئی کہتا اور اس کے ثواب سے بہرہ اندوز ہوتا لیکن ایسا نہیں ہوا ۔ اسی طرح اگر کوئی پیش کر دے کہ عبداللہ بن ابی ابن سلول نے رسول اللہ صلی السلام کے گلے میں رسی ڈال کر کہا تھا کہ آپ ان کو آزادی دیں تب میں چھوڑوں گا۔ یہ بڑی جرات اور دلیری کا کام تھا۔ وہ تو منافق تھا۔ اس کا ایسا کرنا ایک بہت برا فعل ہے نہ کہ قابل سند۔ تو اس قسم کی باتیں ادنی درجہ کے لوگوں سے ہی ظہور میں آئی ہیں۔ بریرہ ایک نا واقف عورت تھی اس نے اس طرح کہا۔ اور آنحضرت صلی یاتم نے اس کی نادانی پر ہنس دیا تو کیا ہوا کبھی کوئی کسی بڑے صحابی کو ایسے فعل کا مرتکب نہیں دکھا سکتا۔ پھر خلفاء کے عمل سے کوئی ثابت نہیں کر سکتا ۔ بلکہ وہاں تو یہی دکھائی دے گا کہ کسی نے رسول اللہ کو کہا کہ آپ نے انصاف سے کام نہیں لیا تو تلوار لئے کھڑے ہیں اور اجازت چاہتے ہیں کہ