خطبات محمود (جلد 4)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 404 of 574

خطبات محمود (جلد 4) — Page 404

خطبات محمود جلد ۴ لد ولد سال ۱۹۱۵ چنانچہ بہت سی بدیاں مسلمانوں میں رائج ہیں مگر جہالت کی وجہ سے جائز اور کار ثواب سمجھتے ہیں۔ مثلاً گیارہویں دینا ، نیاز اور پیر کا بکرا چڑھانا ۔ ان باتوں کو وہ پسندیدہ سمجھتے ہیں ۔ تو ایک بدیاں ایسی ہوتی ہیں کہ ان کو بدی سمجھ کر ارتکاب نہیں کیا جاتا اس قسم کی بدیاں بھی ضرور ضرر رساں ہیں مگر ایک حد تک قابل چشم پوشی بھی ہیں۔ بلحاظ اس کے کہ یہ بدیاں ہیں نقصان ضرور پہنچائیں گی اور بلحاظ اس کے کہ وہ جسم اور روح کیلئے مضر اور نقصان دہ ہیں انسان کیلئے ضرور تکلیف دہ ثابت ہوں گی لیکن ان کا جرم جو ہے وہ خدا کے حضور میں ایک حد تک قابل معافی ہے کیونکہ اس بات کی ان کو سز انہیں ملے گی کہ تم نے خدا کے حکم کو جان بوجھ کر کیوں تو ڑا۔ وہ انسان بھی دکھ پائے گا جس نے کسی بدی کو جان بوجھ کر نہ کیا کیونکہ جو زہر کی پڑیا کھائے گا مرے گا خواہ جان بوجھ کر نہ کھائے لیکن اگر وہ لوٹ پوٹ ہو کر بچ جائے تو گورنمنٹ اس کو اس لئے سزا نہیں دے گی کہ تم خودکشی کے فعل کے مرتکب ہوئے ہو کیونکہ اس نے جان کر ایسا نہیں کیا۔ پس خودکشی جو دنیاوی اور الہی حکومتوں کا جرم ہے اگر غلطی سے زہر کھانے کے نتیجہ میں ہو اور اگر ایسا شخص آخر میں بچ جائے گا تو دنیاوی حکومت اسے سزا نہ دے گی اور اگر مر جائے گا تو الہی حکومت اسے مجرم نہ سمجھے گی لیکن اگر کوئی جان بوجھ کر خودکشی کا ارتکاب کرے گا اور بیچ جائے گا تو یہ حکومت اُسے سزا دے گی اور اگر مر جائے گا تو اگلی حکومت اسے مجرم ٹھہرائے گی کیونکہ ایک سزا بغاوت کی سزا ہوتی ہے اور ایک فعل کے نتیجہ میں سزا ملتی ہے۔ اس لئے کہ اس نے جان بوجھ کر نہیں کیا ، اسے نقصان نہیں پہنچے گا مگر اس لئے کہ جو اس نے غلطی کی ہے اس کا خمیازہ اُٹھائے اسے تکلیف ہوگی اور غلطی کی وجہ سے چونکہ اس کے دل پر زنگ لگ گیا ہے اس لئے ضروری ہے کہ علاج کیا جائے ۔ یہ ایک قسم گناہوں اور گناہ کرنے والوں کی ہے دوسری قسم کے گناہ کرنے والے ایسے ہوتے ہیں جو جان بوجھ کر بدی کرتے ہیں ان لوگوں کی بھی دو قسمیں ہوتی ہیں۔ (۱) ایک وہ جو گناہ کو گناہ سمجھتے ہوئے کرتے ہیں اور جب ان سے اس کے متعلق پوچھا جائے تو اقرار کر لیتے ہیں کہ واقعی ہم ہم اس اس بدی کے مرتکب ہوتے ہیں ہیں مگر مگر مجبور ہیں کمزوریوں کی کی وجہ وجہ سے سے اس فعل بد بد سے سے بچنے کی طاقت نہیں ہے۔ (۲) وہ جو بدی کو بدی سمجھ کر کرتے ہیں اور پھر اس بدی کو نیکی ثابت کرنا چاہتے ہیں اور اس پر اصرار اور ضد کر کے اپنی خجالت اور شرمندگی کو مٹانا چاہتے ہیں ۔ اس قسم کے لوگ پہلی کی کی